وائرل ہیمریجک فیور میں 5ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں وائرل ہیمریجک فیور میں پانچ افراد کے ہلاک اور اڑتالیس کے اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صوبے بھر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔ اس سال بارہ ستمبر سے پچیس نومبر تک ہیمریجک فیور میں پانچ افراد کی ہلاکت اور اڑتالیس افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ کراچی میں آغا خان ہسپتال کی جانب سے سندھ کے محکمہ صحت کو ایک رپورٹ بھیجی گئی ہے کہ بارہ ستمبر سے اب تک ہیمریجک فیور میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچیس مریض مکمل صحتیاب ہونے کے بعد فارغ کردیے گئے ہیں جبکہ گیارہ مریض زیر علاج ہیں۔ سندھ کے محکمہ صحت کے سیکریٹری پروفیسر نوشاد احمد نے آغا ہسپتال کی رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آغا خان ہسپتال میں اس وقت صرف نو مریض زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مریض کے کانگو وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ پروفیسر نوشاد نے بتایا کہ اس وائرس سے متاثر مزید سات مریض ہفتے کے روز ہسپتالوں میں پہنچے ہیں جن کا علاج کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں وائرل انفیکشن کے حوالے سےاکتوبر سے دسمبر تک کے تین ماہ اہم ہوتے ہیں جس میں سردی کی وجہ سے بلوچستان سے کافی لوگ اور جانور یہاں منتقل ہوتے ہیں جبکہ انہیں دنوں میں مچھر بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال کسی صورت میں خطرناک نہیں ہے۔ وائرل انفیکشن کے مریضوں میں شرح اموات تیس فیصد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مریض جلد ہسپتالوں تک پہنچ جائیں تو علاج ممکن ہے۔ جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ مریضوں پر وائرل ہیمریجک فیور کے حملے کا صرف شبہہ ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ ملک میں خصوصی ٹیسٹ کے لیے مطلوبہ کٹ دستیاب نہیں ہے جس سے سائنسی طور پر بیماری کے اصل سبب کی تشخیص ہوسکے۔ سول ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹینڈنٹ ڈاکٹر کلیم بٹ کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سنیچر کو پہنچنے والے مریضوں کو تنہا وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ مریضوں میں سے دو کا تعلق کراچی اور ایک کا ٹھٹہ سے ہے۔ دوسری جانب سندھ میں محکمہ صحت کی جانب سے ہسپتالوں کو چوکس رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ سیکریٹری صحت کے مطابق ڈاکٹروں اور میڈیکل عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ دستانے اور ماسک کے بغیر مریض کو چیک نہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں بلوچستان میں کانگو وائرس 12 May, 2004 | پاکستان کراچی کی مرغیاں بھی متاثر24 January, 2004 | پاکستان مظفرآباد:جراثیم کُش سپرے، مسلح پہرے 17 October, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: ٹیٹنس کے مریضوں میں اضافہ20 October, 2005 | پاکستان باغ میں خارش کی بیماری پھیل گئی09 November, 2005 | پاکستان کیمپوں میں بیماریوں کا راج09 November, 2005 | پاکستان ’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘20 November, 2005 | پاکستان پاکستان: آسٹریلوی بھیڑیں ناقابلِ قبول22 September, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||