بلوچستان میں کانگو وائرس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شمالی علاقوں میں کانگو وائرس کی وباایک مرتبہ پھرپھیل گئی ہے اور قلعہ سیف اللہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کئی افراد کے اس بیماری سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ قلعہ سیف اللہ میں ہنگامی بنیادوں پر سپرے کیا جا رہا ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کے گھروں کے ارد گرد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گھیرا ڈال دیا ہے تاکہ ان میں سے کوئی شخص شہر میں نہ جاسکے۔ اس کے علاوہ ان افراد کے ساتھ رہنے والے افراد کوطبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ قلعہ سیف اللہ میں عمر خان کا کاروبار مال مویشی لانا انھیں کچھ عرصہ پالنا اور کچھ منافعے پر بیچ دینا تھا۔ یہ مویشی اس کی گھر میں ہی رہتے تھے۔ دو روز قبل عمر خان اس کی بیوی اور بیٹے پر کانگو وائرس نے حملہ کردیا جس سے تینوں ہلاک ہو گئے۔ بیوی نے مرنے سے پہلے ایک بچی کو جنم دیا لیکن وہ بھی جاں بحق ہو گئی۔ قلعہ سیف اللہ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کے مسلم باغ کے علاقے میں کچھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک مریض کو یہاں کوئٹہ لایا گیا ہے جس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ سول ہسپتال قلعہ سیف اللہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ امیر الدین نے بتایا ہے کہ علاقے میں سپرے کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ یہ جاننے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ یہ جانور کہاں سے آئے ہیں اور کہاں کہاں بیچے گئے ہیں تاکہ ان جانوروں کو مزید آگے جانے سے روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ کسی قسم کی تکلیف یا بیماری کی صورت میں چاہے وہ سر کا درد ہی کیوں نہ ہو ہسپتال سے ضرور رابطہ کریں۔ اس بیماری سے ہلاک ہونے والے خاندان کے بارے میں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ یہ لوگ انتہائی آلودہ ماحول میں رہتے تھے۔ اور عموما بلوچستان کے ان علاقوں میں اس بیماری سے وہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں جو مال مویشی کا کاروبار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ سن دو ہزار میں لورالائی کے علاقے میں اس بیماری سے پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اس طرح اس بیماری سے ہر سال ان شمالی علاقوں میں ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں۔ ڈائریکٹر ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر شفیع نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم یہاں پہنچ چکی ہے اور خون کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کے ان علاقوں میں یہ جراثیم کیسے اور کیوں کر پہنچتے ہیں۔ کانگو وائرس مال مویشی کے جلد پر پلنے والے ہارڈ ٹک یعنی چیچڑ سے ہوتے ہیں۔ یہ خاص قسم کا چیچڑ جب انسان کو کاٹتا ہے تو اس سے انسان بیمار ہو جاتا ہے سخت بخار کے بعد منہ ناک پیشاب اور پاہ خانے کی جگہ سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر کو ئی انسان ان مریضوں کے قریب ہو یا زخمی جگہ پر متاثرہ مریض کا خون لگ جائے تو اس شخص کو بھی یہی بیماری ہو جاتی ہے۔ یاد رہے کہ سن دو ہزار میں لورالائی ہسپتال کے دو کمپاؤنڈر بھی مریضوں کا علاج کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||