BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نظر انداز نہ کریں‘

ایبٹ آباد میں عارضی ہسپتال
صوبائی اعداوشمار کے مطابق یہاں پانچ سو سے زائد ہلاکتوں کے علاوہ بیس ہزار سے زائد مکانات کو نقصان بھی پہنچا۔
صوبہ سرحد کے آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثرہ پانچ اضلاع میں ایبٹ آباد بھی شامل ہے۔ تاہم ایک شکایت ہے کہ اسے دیگر اضلاع کی طرح توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے صوبہ سرحد کے دیگر چار اضلاع کی طرح ایبٹ آباد بھی بری طرح متاثر ہوا۔ صوبائی اعداوشمار کے مطابق یہاں پانچ سو سے زائد ہلاکتوں کے علاوہ بیس ہزار سے زائد مکانات کو نقصان بھی پہنچا۔

لیکن کئی مقامی لوگوں کے خیال میں اس ضلع کو اُس کے نقصانات کی مناسبت سے وہ توجہ نہیں دی گئی جو دیگر اضلاع کو ملی۔ اس تاثر سے ایبٹ آباد کے ستر سالہ ناظم بابا حیدر زمان بھی متفق ہیں۔

ان کے نئے دفتر میں گزشتہ دنوں ان سے ملاقات ہوئی تو کئی متاثرین ہاتھ میں امداد کی درخواستیں لے کر ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ابھی ایبٹ آباد کا نمبر نہیں آیا۔ پہلے حکومت دیگر زیادہ متاثرہ علاقوں کا بندوبست کر رہی ہے بعد میں ایبٹ آباد کا نمبر آئے گا۔

لمبی سے سفید داڑھی والے بابا حیدر زمان نے بتایا کہ ایبٹ آباد ضلع کے لوگوں کو بڑی شکایت ہے کہ ان کو توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ’لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ ہمیں ابھی تک کچھ نہیں ملا ہے۔ پاکستان کے اندر اور باہر لوگوں نے بہت امداد کی ہے لیکن اس سے بہت زیادہ کی ضرورت ہے ورنہ ہم لوگوں کی توقعات کو پورا نہیں کر سکیں گے۔‘

لیکن ایبٹ آباد کے صحافی اس شکایت کو بےجا قرار دیتے ہیں۔ ایبٹ آباد سے شائع ہونے والے روزنامے سرحد نیوز کے مدیر عامر شہزاد جدون کا کہنا ہے کہ ابتدا میں تو یہ شکایت دور دراز کے علاقوں تک امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے درست تھی لیکن اب شاید ایسا نہیں۔ ’ایبٹ آباد کو بھی اس کے نقصانات کے مطابق امداد مل رہی ہیں۔‘

ایبٹ آباد نے زلزلے سے ناصرف خود جانی و مالی نقصان اٹھایا بلکہ مظفرآباد سے دو ہزار سے زائد آنے والے متاثرہ خاندانوں کو بھی پناہ دی ہے۔ مقامی صحافی کوثر نقوی کا ان کی مشکلات کے بارے میں کہنا تھا کہ انہیں ضلع حکومت خوراک اور دیگر امدادی سامان مہیا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

زلزلے کے فورا بعد سے ایبٹ آباد نے صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع کے متاثرین کی امداد کے اہم مرکز کا کردار اپنے زخم بھلا کر ادا کیا ہے۔ یہاں دیگر اضلاع کے ہزاروں زحمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال قائم کئے گئے، ہیلی کاپٹروں کا بیس بنا جہاں سے وہ امداد دیگر علاقوں تک لیجاتے اور کئی خیمہ بستیاں بھی قائم ہوئیں۔ ایبٹ آباد نے زلزلہ متاثرین کی مشکلات کم کرنے میں یقینا کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

اسی بارے میں
وادی نیلم میں خوراک کی قِلّت
20 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد