’فوج کو واپس بلا لیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا تعلق ضلع بٹ گرام میں گاؤں بندیگو سے ہے۔ مجھے بس یہ کہنا ہے کہ ہمارا ضلعہ زلزلے کے ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود ویسے کا ویسا ہی ہے۔ فوجی حضرات آئے تو ہماری خدمت کے لیے، لیکن یہاں آکر ہمیں ’ذلیل‘ بھی کیا ہے۔ ہمارے گاؤں بندیگو کا بٹ گرام ریلیف کیمپ کے ایک میجر صاحب نے دورہ کیا اور انہوں نے ہمارے گاؤں کی مسجد دیکھی جو پوری طرح تباہ ہو گئی ہے۔ اب اس میں سردی کے موسم میں نماز پڑھنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔ میجر صاحب نے مسجد کے لیے ایک ٹینٹ دینے کا وعدہ کیا۔ جب میں وہ ٹینٹ لینے کے لیے کیمپ پہنچا تو وہاں کے فوجی گارڈ نے مجھے اندر جانے سے روکا اور کہا کہ شام کو آنا۔ جب میں شام کو دوبارہ وہاں گیا تو اسی گارڈ نے مجھے پھر روکا اور اندر جانے نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ میجر صاحب سے صرف یہ کہہ دو کہ گاؤں بندیگو سے ایک شخص مسجد کے لیے ٹینٹ لینے آیا ہے۔ تو اس نے بہت بدتمیزی سے بات کی۔ مجھے بھی غصہ آگیا لیکن کسی طرح بات ختم ہوئی اور میں بغیر ٹینٹ کے گھر واپس آ گیا۔ میرے دل میں فوج کے لیے جو قدر تھی وہ اس گارڈ نے خاک میں ملا دی۔ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں اس طرح کی امداد کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہم لوگ سردی میں زندہ رہ لیں گے بجائے ایسی ذلت برداشت کرنے کے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ فوج بری ہے مگر بٹ گرام میں آکر فوج خود کو خدا سمجھنے لگی ہے۔ خدا را اسے یہاں سے ہٹا لیا جائے اور تمام کام مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||