BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 December, 2005, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگو وائرس کا خوف

برڈ فلو وائرس
مشرقی ایشا میں برڈ فلو وائرس کا خوف طاری ہے
پاکستان کے شہر لاہور میں ایک مریض ایک دماغی مرض سے ہلاک ہوگیا جسے ایک مقامی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ابتدائی طورپر کانگو وائرس قرار دیا تھا لیکن محکمۂ صحت پنجاب کی ایک ٹیم نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ یہ کانگو وائرس نہیں ہے۔

لاہور کے جنرل ہسپتال میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات ڈیرھ بجے اٹھارہ سالہ نوجوان علی شان دم توڑ گئے جو تین روز پہلے بیہوشی کے عالم میں ہپستال لائے گئے تھے۔

اکبری منڈی لاہور کے رہائشی علی شان کی بیماری کو ابتدائی طور پر کانگو وائرس سمجھا گیا۔

جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کو خصوصی لباس اور ماسک فراہم کیے گئے اور مریض کو الگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا جبکہ مریض کی ہلاکت کے بعد اس کے بستر اور اس کے زیر استعمال تمام اشیاء کو جلا دیا گیا۔

سنیچر کی صبح اسلام آباد سے طبی ماہرین کی ٹیم نے ہسپتال کا دورہ کیا اور حفاظتی اقدمات کا جائزہ لیا جبکہ محکمۂ صحت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنے طور پر تحقیقات کیں محکمۂ صحت پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم چودھری نے کہا کہ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ علی شان کی ہلاکت کم از کم کانگو وائرس سے نہیں ہوئی لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ علی شان کی موت کی کیا وجوہات تھیں۔

جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر رضوان مسعود بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ مریض کے دماغ کی جھلی پر سوزش ان کی ہلاکت کا سبب بنی ہے۔

مئی سن دو ہزار چار میں بلوچستان میں چار افراد کی کانگو وائرس میں ہلاکت کے بعد گزشتہ مہینے کراچی میں بھی دو ڈاکٹر دماغی جھلی میں سوزش کے باعث ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے مرض کو بھی کانگو وائرس سے مشابہ قرار دیاگیا۔

ڈاکٹر رضوان مسعود بٹ نے کہا ہے کہ کل رات لاہور میں انتقال کرنے والے علی شان اگر کانگو وائرس کے مریض نہیں بھی تھے تو بھی ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان پر کس قسم کے وائرس یا بیکٹریا نے حملہ کیا ہے۔

علی شان لاہور کی ایک گارمنٹس فیکٹری کے ملازم تھے اور ان کی لاش ان کے ورثا کے حوالے کرتے ہوئے ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ انہیں اس کی تدفین کے مراحل تک کیا احتیاطی تدابیر کر نی ہیں۔

خود جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے نے اپنے وہ ماسک ،گاؤن اور کپڑے بھی تلف کر دیے ہیں جنہیں پہن کر وہ مریض کا معائنہ کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی میں ڈاکٹروں کا احتجاج
24 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد