کراچی: کانگو وائرس کا مریض؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں کانگو وائرس کے مشتبہ مریض کو جناح اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ جہاں اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تنہا رکھا گیا ہے۔ کراچی کے علاقے ملیر کا رہائشی راحیل پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور ایک کاٹن فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔ سترہ سالہ راحیل کے بلڈ ٹیسٹ کے نمونے اسلام آباد نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ بھیجے گئے ہیں۔ جناح اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مشہود عالم کا کہنا ہے کہ اسلام آْباد سے رپورٹ آنے کے بعد مریض کے کانگو وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریض کے خون میں ریڈ سیل کی کمی ہے جو دیگر بیماریوں کے ساتھ کانگو وائرس کی بھی علامت ہے۔ راحیل کو دماغی ملیریا اور منھ سے خون آنے کے بعد ایک پرائیوٹ ہسپتال میں داخل کرایا کیا گیا تھا۔ جس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورہ سے اس کو کراچی کے سب سے بڑے نجی ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں اسے کانگو وائرس میں مبتلا ہونے کے خدشے کے بعد فارغ کردیا گیا۔ جس کے بعد اس کے رشتے دار اسے سرکاری اسپتال میں لیے آئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریض کی حالت بہتر ہے۔ اس کو ٹریٹمینٹ دی جارہی ہے۔ مریض کے ساتھ اس کی والدہ کو رہنے کی اجازت ہے۔ جب کہ کسی اور کے وہاں جانے پر پابندی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||