BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیپاٹائیٹس سی وائرس تیار
News image
سائنسدان ہیپاٹائیٹس سی وائرس تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں
امریکی سائنسدان پہلی بارلیبارٹری میں ہیپاٹائیٹس سی کاجرثومہ تیار کرنے
میں کامیاب ہو گئے ہیں جواس مرض کےخلاف دوا کی تیاری میں مدد گار ہو
سکےگا۔

ہیپاٹائیٹس سی جگر کی بیماریوں کے حوالے سے ایک دائمی مرض ہے۔ دنیا بھر میں ایک سو ستر ملین افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔اس بیماری کا جرثومہ
ایچ سی وی کہلاتا ہے جوخون اور انسانی جسم سے نکلنے والے مادوں کے ذریعے پھیلتاہے۔

اسوقت اس بیماری کا علاج دو دواؤں کو ملا کراستعمال کرنے سے ممکن ہے۔ لیکن صرف چالیس فیصد مریض ہی اس دوا سےصحت یاب ہو سکے ہیں۔

اس بیماری کا جرثومہ انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد اپنے میز بان خلیے
کے نظام پر قبضہ کر لیتا ہے۔

تاحال اس بیماری کے جرثومےکے دور حیات کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں کیوں کہ سائنسدان ایچ سی وی کو انسانی جسم کے علاوہ تجربہ گاہ میں پیدا کرنےاوراس پر تجربات کرنے کے قابل نہیں ہو سکے ہیں۔

روکیفیلر یونیورسٹی کے شعبہ’انفیکشیس ڈیزیز‘ کے محقق ڈاکٹر چارلس رائز
کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق مستقبل میں ایچ سی وی کے بارے میں ٹیسٹ ٹیوب مطالعہ میں بنیادی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس جرثومے کے خلاف دوا کی تیاری میں بھی مدد دے گی۔

انہوں نے سائنس نامی رسالے کو بتایا کہ متعدد تجربات کے بعد وہ اس قابل ہو سکے کہ اس جرثومے کو تجربہ گاہ میں پیدا کر سکیں۔

تجربہ سےیہ پتا چلا کہ ایک مولیکیول سی ڈی ایٹی ون جو انسانی جسم کے
خلیہ کی سطح پر پایا جاتا ہے ایچ سی وی کے انسانی خلیے میں داخلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دوران تحقیق یہ بھی معلوم ہوا کہ ہیپاٹائیٹس سی کا جرثومہ ایک پروٹین
ای ٹو پیدا کرتا ہے جو سی ڈی ایٹی ون کو گھیرے میں لے لیتا ہے۔

ہیپاٹائیٹس سی ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹواور ’یورپین لیور پیشنٹس
ایسوسی ایشن‘ کےصدر چارلیس جورج کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ہیپاٹائیٹس سی کے حوالے سے تحقیق میں بڑی ڈرامائی بہتری آئی ہے۔تاہم
ابھی بھی اس سلسلے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مہلک بیماری کےخلاف دوا کی تیاری یقیناً ہیپاٹائیٹس
سی کے مریضوں کے لیےایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد