ہیپاٹائیٹس سی وائرس تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدان پہلی بارلیبارٹری میں ہیپاٹائیٹس سی کاجرثومہ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جواس مرض کےخلاف دوا کی تیاری میں مدد گار ہو سکےگا۔ ہیپاٹائیٹس سی جگر کی بیماریوں کے حوالے سے ایک دائمی مرض ہے۔ دنیا بھر میں ایک سو ستر ملین افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔اس بیماری کا جرثومہ اسوقت اس بیماری کا علاج دو دواؤں کو ملا کراستعمال کرنے سے ممکن ہے۔ لیکن صرف چالیس فیصد مریض ہی اس دوا سےصحت یاب ہو سکے ہیں۔ اس بیماری کا جرثومہ انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد اپنے میز بان خلیے تاحال اس بیماری کے جرثومےکے دور حیات کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں کیوں کہ سائنسدان ایچ سی وی کو انسانی جسم کے علاوہ تجربہ گاہ میں پیدا کرنےاوراس پر تجربات کرنے کے قابل نہیں ہو سکے ہیں۔ روکیفیلر یونیورسٹی کے شعبہ’انفیکشیس ڈیزیز‘ کے محقق ڈاکٹر چارلس رائز انہوں نے سائنس نامی رسالے کو بتایا کہ متعدد تجربات کے بعد وہ اس قابل ہو سکے کہ اس جرثومے کو تجربہ گاہ میں پیدا کر سکیں۔ تجربہ سےیہ پتا چلا کہ ایک مولیکیول سی ڈی ایٹی ون جو انسانی جسم کے دوران تحقیق یہ بھی معلوم ہوا کہ ہیپاٹائیٹس سی کا جرثومہ ایک پروٹین ہیپاٹائیٹس سی ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹواور ’یورپین لیور پیشنٹس انہوں نے کہا کہ اس مہلک بیماری کےخلاف دوا کی تیاری یقیناً ہیپاٹائیٹس |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||