BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2004, 15:50 GMT 20:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوئٹے مالا کے سائنسدان کا اعزاز
فریڈی پیچیریلی
’کام کی رفتار بہت سُست ہے‘
عام طور پر سائنسدانوں کی زندگی کی جھلکیوں میں کم تنخواہ، کیفین والی اشیا استعمال کرنے کی عادت اور رفقاء کو نئے اصول وضح کرتے دیکھنا شامل ہوتا ہے۔

اس سال امریکہ میں سائنس کے فروغ کی تنظیم کی جانب سے پیچیریلی اور گوئٹے مالا میں ان کے دیگر ساتھی سائنسدانوں کو سائنس کو انسانی حقوق کے لئے استعمال کرنے پر اعزاز دیا جائے گا۔

فریڈی پیچیریلی انیس سو اکہتر میں گوئٹے مالا میں پیدا ہوئے اور نو سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے تعلیم مکمل کی۔

پیچیریلی اور ان کے ساتھی گوئٹے مالا کی’فارنسک اینتھراپالوجی فاؤنڈیشن‘ میں کام کرتے رہے ہیں۔

یہ فاؤنڈیشن انیس سو بائیس میں قائم ہوئی تھی۔ یہاں گوئٹے مالا میں ہونے والی چھتیس سالہ خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں تحقیقات کی جاتی ہیں۔

انیس سو اسّی کی دہائی میں اٹھارہ ماہ ایسے ہیں جب خیال کیا جاتا ہے کہ اس خانہ کے دوران سب سے زیادہ زیادتیاں ہوئی۔ اس دوران جنرل ایفرین ریاس مانٹ کی مشہور ’سکارچڈ ارتھ ‘ یعنی ’جھلسی ہوئی زمین‘ کی پالیسی جاری تھی۔

جنرل مانٹ کا نشانہ قدیم مایا آبادی تھی جن پر گوئٹے مالا کی ’نیشنل یشنل ریوولوشنری یونٹ‘ کے جنگجؤوں کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ فوجیوں نے چار سو سے چھ سو مایا دیہات تباہ کر دیئے تھے جس میں دو لاکھ کے قریب افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے۔

پیچیریلی اور ان کے ساتھی اس دور میں ہونے والے مظالم کے بارے میں سائنسی بنیادوں پر تحقیق کرتے ہیں۔ وہ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق پر مبینہ واقع کی فائل تیار کرتے ہیں۔

ہلاک ہونے والے شخص کی فائل تیار کی جاتی ہے، اس کی قبر کا پتہ چلا یا جاتا ہے اور پھر لاش کو تجربہ گاہ میں لے جا کر اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان تجربات سے پتہ چلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس شخص کو کیسے مارا گیا۔

پیچیریلی اور ان کے ساتھیوں نے گزشتہ بارہ سال میں چار سو قبروں کا پتہ چلایا ہے اور تین ہزار لاشیں برآمد کی ہیں۔

انہوں نے کام کی رفتار کو بہت سست قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کام مکمل کرنے میں پچیس سے تیس سال لگ سکتے ہیں۔

اس تحقیق کی بنیاد پر ابھی تک بہت کم مقدمات عدالتوں میں دائر کئے جا سکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد