’لیزیرس‘ نامی وائرس کی نشاندہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر سکیورٹی کمپنیوں نے’لیزیرس‘ نامی وائرس کی نشاندہی کی ہے جو کہ متاثرہ کمپیوٹروں پر موجود ان معلومات کی مدد سے دوبارہ جنم لیتا ہے جو کہ تلف کرنے سے رہ گئی ہوں۔اس وائرس کا تعلق ’ونڈوز‘ کی ’سوبر فیملی‘ سے ہے۔ یہ وائرس لوگوں کو متاثرہ پیغامات یہ پیغام دکھا کر کھولنے پر مجبور کرتا ہے کہ مذکورہ پیغام وائرس سے پاک ہے۔ کمپیوٹر سکیورٹی کمپنیوں نے کمپیوٹر صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ انجان ای میل کھولنے سے گریز کریں۔ پہلا سوبر وائرس اکتوبر 2003 میں سامنے آیا تھا اور اس نے جرمنی میں کمپیوٹر سسٹم کو خاصا نقصان پہنچایا تھا۔ ’لیزیرس‘ نامی یہ وائرس 19 نومبر 2004 سے مصروفِ عمل ہے اور یہ نہ صرف پچھلے وائرس کی نسبت زیادہ طاقتور ہے بلکہ اس میں لوگوں کو بے وقوف بنانے کا سامان بھی زیادہ ہے۔ یہ وائرس متاثرہ کمپیوٹر میں دو فائلیں بناتا ہے۔ اگر ایک فائل کو ختم بھی کر دیا جائے تو دوسری فائل پہلی فائل کو دوبارہ تشکیل دے دیتی ہے۔ یہ تکنیک ان کمپیوٹر پروگراموں میں استعمال کی جاتی ہے جو کے کمپیوٹر جاسوسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کسی وائرس کو بنانے کے لیے یہ تکنیک پہلی بار استعمال کی گئی ہے۔ وائرس سے متاثرہ فائلیں bat ، scr ، pif اورcom فائل ایکسٹینشن کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں۔ ان فائلوں پر کلک کرنے سے وائرس حرکت میں آجاتا ہے اور کمپیوٹر پر موجود اینٹی وائرس کی کئی حرکات کو ناقابلِ عمل بنا دیتا ہے۔ بی بی سی کی ویب سائٹ کو چار مختلف کمپنیوں کی جانب سے ’لیزیرس‘ سوبر وائرس سے ونڈوز کے 2000،95،98،Me، NT،XP ورژن متاثر ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||