| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرغیوں کا وائرس: خدشات میں اضافہ
جاپان نے تھائی لینڈ سے مرغی کے گوشت کی درآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا کہ تھائی لینڈ کی حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا تین افراد پرندے (مرغی) سے لگنے والے فلُو کے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔ تھائی لینڈ میں تین افراد مختلف ٹیسٹ کے مراحل سے گزر رہے ہیں تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ انہیں پرندوں سے لگنے والے انفلئنزا ہے یا نہیں۔ اس مرض سے ویت نام میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تھائی لینڈ کئی مرتبہ یہ کہہ چکا ہے کہ اس کے ملک میں پولٹری کو کسی طرح کی کوئی بیماری نہیں ہے۔ جاپان نے جو تھائی لینڈ سے مرغی درآمد کرنے والا بڑا ملک ہے، یہ کہا ہے کہ اگرچہ ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی کہ تھائی لینڈ میں مرغیوں میں انفیکشن ہے لیکن اس امکان کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی ادارۂ صحت نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ وائرس جوں جوں پھیلے گا خدشہ ہے کہ انتہائی خطرناک شکل اختیار کرتا جائے گا۔ ناقدین نے تھائی لینڈ کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے صورتِ حال کو چھانے کی کوشش کی ہے۔ تھائی لینڈ میں لاکھوں کی تعداد میں بیمار جانوروں کو تلف کیا گیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ یہ مرغیاں فلو سے متاثر نہیں تھیں۔ تاہم جمعرات کو صحتِ عامہ کی وزارت نے تسلیم کیا کہ اس بات کی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ سات سالہ بچے اور مرغیوں کو پالنے والے ایک شخص کے علاوہ ایک تیسرے شخص کی موت کہیں پرندوں کے فُلو کا شکار تو نہیں تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||