’خودکشی‘ کی ای میل میں وائرس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر کی ایک سیکورٹی کمپنی کے مطابق مائیکل جیکسن کی خودکشی کرنے کے بارے میں بھیجی جانے والی ای میل سے لوگوں کو وائرس کا شکار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس پیغام سے جیکسن پر لگے بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات کی وجہ سے لوگوں کا اس ای میل کی طرف رحجان زیادہ ہوگیا ہے۔ اس جعلی ای میل کے پیغام کو پڑھنے والوں کو جیکسن کی خودکشی کے بارے میں جاننے کے لنک بتائے جاتے ہیں مگر ان لنک پر کِلک کرنے والوں کے کمپیوٹر وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس پیغام کے بارے میں دس جون کو معلوم ہوا، جس کی وجہ سے اس سے پہلے کہ اینٹی وائرس کمپنیاں کوئی اقدامات کرتیں یہ ای میل کافی تعداد میں لوگوں کو بھیجی جاچکی تھی۔ بہت سے وائرس کی طرح یہ بدنیتی کا پیغام لوگوں کو دھوکے سے اس کے لنک کھولنے پر آمادہ کرتا ہے تا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہو جائیں۔ غلط طریقے سے لکھا جانے والے یہ پیغام جس کا عنوان ’خودکشی کی کوشش‘ کرنا ہے، یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ مائیکل جیکسن کا یہ ردِعمل ان کے اوپر لگائے گے الزامات کے دباؤ کی وجہ ہے۔ جیکسن پر لگائے الزامات کے کیس کے فیصلےکا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ جو لوگ اس جعلی پیغام کے لنک پر کِلک کریں گے ان کو اس ویب سائٹ کے مصروف ہونے کا پیغام نظر آئیگا۔ سوفس سکیورٹی کی ایک کنسلٹنٹ کیرل تھیرالٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے حیران نہیں کہ اس سائٹ کو دیکھنے والے اس غلط فہمی میں ہوں گے کہ جیکسن کی اس بریکنگ نیوز کی وجہ سے اس سائٹ پر شدید رش ہے اور اسی کا وجہ سے یہ پیغام پڑھنے میں مشکل ہورہی ہے۔ تھیرالٹ کے مطابق مصروف سائٹس کیونکہ نظر نہیں آتی اس لیے ان کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے ان کے اندر کا وائرس بھی کمپیوٹر میں آجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گندی ذہنیت کے لوگ اکثر مشہور اور بڑے لوگوں کا نام استعمال کرکے ایسی سائٹس لوگوں کو متاثر کرتی ہیں اور وہ بغیر سو چے سمجھے وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||