| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں کو نوبل انعام
سن دو ہزار تین کے لئے کیمسٹری کا نوبل انعام دو امریکی سائنسدانوں پیٹر ایگرے اور روڈرک میکنن کو دیا گیا ہے۔ یہ شاید اس برس دیا جانے والا سب سے زیادہ دلچسپ نوبل انعام ہے کیونکہ یہ دونوں امریکی سائنسدانوں کو ان کی اس حالیہ تحقیق پر دیا گیا ہے جس کا براہ راست تعلق انسان کو لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں سے ہے۔ دونوں سائنسدانوں پیٹر ایگرے اور روڈرک میکنن کو یہ انعام انسانی جسم کے خلیوں کی جھلّی میں نمکیات اور پانی کی ترسیل کرنے کے لئے موجود رگیں دریافت کرلینے پر دیا گیا ہے۔ نوبل انعام دینے والے منصفین کے مطابق دونوں سائنسدانوں کی یہ تحقیق انسان کو لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں کو مزید سمجھنے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس تحقیق سے گردے، دل، اور اعصابی نظام یا نروس سسٹم اور دیگر بیماریوں سے متعلق بیماریوں کو سمجھنے میں انتہائی مدد ملے ہوگی۔ دونوں امریکی سائنسداں انعام کے ساتھ حاصل ہونے والی تیرہ لاکھ ڈالر کی رقم میں بھی برابر کے شریک ہوں گے۔ انسان سمیت تمام جانداروں کے خلیے جھلیوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔ ان ہی جھلیوں میں وہ رگیں بھی موجود ہوتی ہیں جو نمکیات یا پانی جیسے ضروری اجزاء کی ترسیل کی ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہ رگیں صحت کے لئے اس لئے انتہائی اہم ہوتی ہیں کہ یہی تعین کرتی ہیں کہ پانی یا نمکیات جیسے ضروری اجزاء کس مقدار میں جسم میں جانے دی جائیں۔ ان ہی رگوں کے ذریعہ آنے والی پانی یا نمکیات کی زیادہ یا کم مقدار کے بغیر انسانی جسم کا کوئی خلیہ مکمل طور پر درست انداز میں کام نہیں کرسکتا۔ نوبل انعام حاصل کرنے والے دو میں سے ایک امریکی سائنسداں پیٹر ایگرے نے بیس برس قبل اس سالمے یا مولیکیول کو شناخت کیا تھا جو انسانی جسم کے خلیے میں پانی جانے کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے اس سالمے کا نام ایکواپورن رکھا تھا۔ اور صرف پانچ سال قبل، نوبل انعام حاصل کرنے والے دوسرے امریکی سائنسداں روڈرک میکنن نے ایسی ہی ایک برق دار یا رواں رکھنے والی رگ کا ایک انتہائی باریک خردبینی نقشہ بنا کر اپنے ہمجولیوں اور ساتھیوں کو حیرت و تعجب میں ڈال دیا تھا۔ اگر یہ رگیں کمزور ہوجائیں یا ان میں اجزاء کی روانی میں کمی آجائے تو اعصابی بیماریاں یا فشار خون یعنی بلڈ پریشر کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
اگرچہ ان بیماریوں کی کئی ایسی دوائیں موجود ہیں جو ان رگوں کے ذریعے انسانی جسم داخل ہوجاتی ہیں مگر ان دونوں سائنسدانوں کی اس دریافت سے دوسرے سائنسدانوں کے لئے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ ایسی دوا تیار کرسکیں جو ان رگوں سے زیادہ بہتر انداز میں گزر کر زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکے اور جیسے کہ نوبل انعام دینے والے منصفین نے کہا کہ ’اس سال کے نوبل انعام نے انسانی زندگی کی بنیاد کی کارکردگی کو سمجھنا آسان بنا دیا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||