کراچی میں ڈاکٹروں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے سب سے بڑے ہسپتال میں دو ڈاکٹروں کی کانگو جیسے وائرس میں ہلاکت کے بعد ڈاکٹر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سول ہسپتال کراچی میں ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں نے دوسرے روز بھی ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا اور اعلان کیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک وہ بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔ ہاؤس جاب ڈاکٹرز کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر کامران نے بتایا کہ ہیمریج فیور کے باعث گذشتہ ایک ماہ کے اندر دو ڈاکٹر فوت ہو چکے ہیں، لیکن انتظامیہ حفاظتی انتظامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ڈاکٹر کامران نے صحافیوں کوبتایا کہ ڈاکٹروں کے مطالبات میں ہیمریج فیور سے تحفظ کے لئے دوائیں، سرجیکل اور معائنہ کے دستانے، ڈاکٹروں کے مفت علاج کا بندوبست، ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ہپٹائٹس بی اور سی کے ٹیسٹ، سول ہسپتال میں زیر علاج یا فارغ ہونے والے ہیمریج فیور کے مریضوں کے سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرنا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہیمریج فیور کانگو وائرس کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے وعدے کے باوجود تاحال کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹرز سول ہسپتال میں غیر محفوظ حالات میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اتوار کی شام سول ہسپتال کی ہاوس جاب افیسر لیڈی ڈاکٹر ڈاکٹر یسریٰ جلیل ہیمریج فیور کے باعث فوت ہوگئی تھی۔ اس مرض کو ڈاکٹرز کانگو وائرس جیسا خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ناک اور منہ سے خون آنے کے بعد ان کو آغا خان ہسپتال میں داخل کیاگیا تھا۔ جہاں وہ اتوار کی شام انتقال کرگئیں۔ آغا خان ہسپتال میں علاج کے دوران ڈاکٹر یسریٰ کے ساتھ قیام کرنے والی ان کی بھابھی مسز شہزاد نے بتایا کہ آغا خان ہسپتال میں نو سے زائد ہیمریج فیور کے مریض زیر علاج ہیں۔جس سے لگتا ہے کہ یہ وائرس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دریں اثنا صوبائی محکمہ صحت نے ڈاکٹر یسریٰ کے موت کے اسباب اور ہیمریج فیور کا پتہ لگانے کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو دس دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ سندھ کے محکمہ صحت کے سیکریٹری پروفیسر نوشاد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یسریٰ نے پانچ ماہ قبل محکمہ صحت میں ملازمت اختیار کی تھی۔ پروفیسر نوشاد کے مطابق اگرچہ یہ کانگو وائرس نہیں ہے۔تاہم اس کی علامات ویسی ہی ہیں اور اس جیسا ہی خطرناک ہے۔ جس کا علاج ہم کانگو وائرس کی طرح ہی کرتے ہیں۔ صحت سیکریٹری نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ ایک ماہ قبل بھی سول ہسپتال کے نیورو سرجری شعبے کے ڈاکٹر احمد ضیا ایسے ہی کے باعث موت واقع ہوگئی تھیں۔ انہوں نے کہا اور کتنے لوگ اس وائرس میں مبتلا ہیں اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس سوال پر کہ کیا ڈاکٹروں کے لئے احتیاطی تدابیر نہیں ہوتی، انہوں نے کہا کہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس مریض میں یہ جراثیم موجود ہیں۔ ان مریضوں کا علاج کرنے والےڈاکٹر مریض کے خون یا قے یا اس کو ہاتھ لگانے کی وجہ سےاس وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر نوشاد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے مریض اپنے ساتھ یہ وائرس لے آتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی مہینے میں بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کانگو وائرس میں فوت ہوگئے تھے۔ سیکریٹری صحت نے کہا کہ اب محکمہ کے ڈاکٹروں کو ہدایات کی ہیں کہ وہ تمام حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔اور ایسے وائرس کی علامات جس مریض میں پائی جائیں اس کو تنہا رکھا جائے۔ | اسی بارے میں مجلس: کراچی میں پہیہ جام کی اپیل31 May, 2005 | پاکستان زخمیوں کا جہاز کراچی پہنچ گیا20 October, 2005 | پاکستان 210 قدیم عمارتیں گر سکتی ہیں20 October, 2005 | پاکستان کیٹی بندر حادثہ: 15 لاشیں مل گئیں05 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||