کیٹی بندر حادثہ: 15 لاشیں مل گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ساحلی علاقے کیٹی بندر میں ایک کشتی کے ڈوبنے کے واقعے میں سترہ افراد کو بچالیا گیا ہے جبکہ پندرہ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم سے کم بیس افراد لاپتہ ہیں۔ جائےحادثہ پر موجود افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشتی اس لئے ڈوب گئی کیوں کہ کہ اس پر گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے۔ ہمارے نامہ نگار ادریس بختیار کے مطابق یہ ماہی گیری کشتی تھی اور کشتی والے عام طور پر ضرورت سے زیادہ لوگوں کو بٹھالیتے ہیں۔ کشتی کے ڈوبنے کی دوسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے تلے میں سے تختیں اکھڑگئی تھیں جس کی وجہ سے اس میں پانی بھر آیا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق ماضی میں کئی بار اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ کشتیوں میں وائرلیس نظام لگایا جائے تاکہ اس طرح کی ایمرجنسی میں فوری امداد کی فراہمی ممکن ہو لیکن عام طر پر ایسی تجاویز پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ نامہ نگار ادریس بختیار کے مطابق خود کراچی کی کشتیوں میں وائرلیس کا کوئی نظام نہیں ہے جبکہ کیٹی بندر کے علاقے میں جہاں جمعہ کے روز یہ حادثہ پیش آیا بہت سی چھوٹی چھوٹی کشتیاں چلتی ہیں لیکن انہیں کسی طرح کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ جمعہ کے روز یہ حادثہ صبح کے وقت پیش آیا لیکن اطلاعات کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے امدادی کام کافی تاخیر سے شروع ہوا اور شام کے چار بجے کے قریب پاکستانی بحریہ کے غوطہ خور جائے حادثہ پر پہنچ سکے۔ صبح سے شام کے اِس دوران ڈوبنے والی کشتی کو کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔ کیٹی بندر کے علاقے میں مچھیروں کو موسم کی اطلاعات کی فراہمی کا بھی کوئی نظام نہیں ہے جس سے انہیں آگاہ کیا جاسکے کہ کشتی سمندر میں لے جانا ان کے لئے ٹھیک ہے یا نہیں۔ جمعہ کے روز پیش آنے والے اس حادثے کی اطلاع لوگوں تک تب پہنچی جب چار مسافر تیر کر ساحل پر پہنچے اور گاؤں والوں کو بتایا۔ ملاحوں کی تنظیم پاکستان فِشر فوک کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی تعلق سومرا اور دربرادری سے تھا۔ | اسی بارے میں کشتی ڈوبنے سےکم از کم 60 ہلاک04 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||