جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلے سے ہونے والے بھاری جانی نقصان کے دھچکے کو جذب کرنے کے بعد اب سوچ اس رخ پر جانے لگی ہے کہ جنگلات، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کس حال میں ہیں۔ان شعبوں سے سرکاری خزانے اور نجی شعبے کو اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ سیاحت، جنگلات اور ثقافت مفتی منصور الرحمان سے گفتگو میں جو معلومات حاصل ہوئیں انکے مطابق ریاست کے کوئی بارہ فیصد رقبے پر گھنے جنگلات موجود ہیں۔ سب سے زیادہ جنگلات ضلع مظفر آباد اور نیلم ویلی میں پائے جاتے ہیں۔انکی کٹائی سے حکومت کو سالانہ ستر کروڑ روپے کے لگ بھگ آمدنی ہوتی تھی۔اب اس آمدنی میں کم ازکم پچیس فیصد کی کمی ہوگی کیونکہ زمین پھٹنے سے جو درخت گرے وہ کچھ اس طرح ٹوٹے پھوٹے ہیں کہ انہیں صرف ایندھن کے طور پر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سیاحت کے شعبے میں صورتِ حال یہ ہے کہ ہر سال کوئی تین لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی سیاح کشمیر کے مختلف علاقوں میں جاتے تھے۔ یہ سیاح محکمۂ سیاحت کے انتالیس ریسٹ ہاؤسوں کے علاوہ محکمۂ جنگلات، لوکل گورنمنٹ اور پبلک ورکس محکمے کے ریسٹ ہاؤسوں اور نجی گیسٹ ہاؤسوں میں قیام کرتے تھے۔ حکومت کو ان سیاحتی مراکز اور ہوٹلوں پر ٹیکسوں کی مد میں سالانہ آٹھ سے دس کروڑ روپے کی آمدن ہوتی تھی۔ان میں سے کم ازکم ساٹھ فیصد عمارات اس طرح سے تباہ ہوئی ہیں کہ انہیں ازسرِنو تعمیر کرنا پڑے گا۔ سیاحت کے شعبے کو ازسرِ نو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے دو سے تین ارب روپے کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ لیکن اس سے اہم نقصان سڑکوں کا ہے جو سیاحتی انفرااسٹرکچر کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں۔ وزیرِ سیاحت کے بقول یہاں پر زلزلے سے پہلے سڑکوں کا نیٹ ورک بہتر تھا۔اس معیار پر سڑکوں کی تعمیر کے لیے بھی پانچ سے دس برس کا عرصہ درکار ہوگا۔ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد مظفر آباد کا قلعہ، نیلم ویلی میں شاردہ کے مقام پر قدیم بودھ درسگاہ، شاردہ کا قلعہ اور پلندری میں رانی باؤلی کے آثار دیکھنے آتے تھے۔ان سب کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ گو مساجد کے مینار بڑی تعداد میں گرے ہیں لیکن کئی بڑے مزارات جن میں مظفر آباد میں سائیں سہیلی سرکار کی درگاہ اور شاہ عنایت کا مزار بھی شامل ہے محفوظ رہے ہیں۔ تاحال اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو اور آثارِ قدیمہ سے متعلق کسی اور سرکردہ ملکی یا بین الاقوامی ادارے نے ان آثار کا حال جاننے میں دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ سیاحت نے کہا کہ جو لوگ اچھے وقتوں میں ہماری وادیوں میں وقت گزارنے آتے تھے برے وقت میں بھی یہاں آ کر کچھ وقت گزارنا چاہیے تاکہ انہیں یہ تجربہ بھی ہو کہ جب حسن و جمال چھین لیا جاتا ہے تو کیسا لگتا ہے۔ | اسی بارے میں مظفر آباد میں زندگی کی رمق22 October, 2005 | پاکستان بینکوں کا کاروبار جزوی طور پر بحال18 October, 2005 | پاکستان پہاڑ گرے اور گاؤں غائب20 October, 2005 | پاکستان برفباری اور بارش نے خطرہ بڑھا دیا27 November, 2005 | پاکستان دیہاتوں کےدیہات اجڑ گئے11 October, 2005 | پاکستان بڑے پیمانے پر نقل مکانی20 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||