BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 October, 2005, 10:02 GMT 15:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینکوں کا کاروبار جزوی طور پر بحال

حکومت کو پالیسی واضح کرنا ہوگی کہ قرض داروں سے کیسے پیش آیا جائے
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دس روز قبل آنے والے زلزلے کے بعد منگل کو پہلی مرتبہ بعض بینک جزوی طور پر کھل گئے ہیں۔

تاہم کچھ بینکوں کی تباہ شدہ برانچیں اب بھی بند ہیں۔ کئی دن سے لوگ بینکوں کے بند ہونے کی وجہ سے پریشانی کا شکار تھے کیونکہ انہیں ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے پیسے درکار تھے لیکن بینک بند ہونے کی وجہ سے وہ پیسے نہیں نکلوا سکتے تھے۔

سٹیٹ بنیک کے چیف مینیجر اے ڈی بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ سمیت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے کئی علاقوں میں بینکوں نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

ان بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ فی الحال چھوٹے کھاتے داروں اور حکومتی محکموں کو امدادی کاموں کے لیے رقوم کی ادائیگی کی جائے۔ ساتھ ساتھ بینکوں کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ تنخواہ دار لوگوں کو اور پینش لینے والوں کو بھی رقم کی ادائیگی کرنا شروع کر دیں۔

چھوٹے کھاتے دار بینکوں کی بندش کی وجہ سے کافی پریشان تھے اور ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کی تباہی کے بعد انہیں رقم کی فوری ضرورت تھی جو انہیں وقت پر نہیں ملی۔

سٹیٹ بینک کے چیف مینیجر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مختلف بینکوں سے لوگوں کو مکانوں اور دکانوں کو گروی رکھنے کے بعد پانچ ارب روپے کے قرض دیئے گئے تھے لیکن اب زلزلے کے بعد جس میں متعدد املاک تباہ ہوگئیں ہیں، حکومت کو پالیسی واضح کرنا ہوگی کہ آیا یہ قرض معاف کیے جائیں گے یا قرض داروں سے یہ رقوم وصول کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ مظفرآباد میں نیشنل بینک کی مرکزی برانچ زلزلے سے مکمل تباہ ہوگئی ہے۔ مختلف بینکوں میں عملے کے پندرہ ارکان زلزلے کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ سات کھاتے دار بھی مارے گئے ہیں۔

اے ڈی بٹ نے بتایا کہ ملبے کے نیچے سے اب تک سترہ کروڑ روپے نقد اور سونا نکال لیا گیا ہے۔ تاہم کچھ بینک ملازمین نے کہا ہے کہ تباہ شدہ بینکوں کی برانچوں سے لاکھوں روپے اڑا لیے گئے ہیں لیکن انتظامیہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سٹیٹ بینک کے چیف مینیجر نے بتایا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے تین اضلاع مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ میں میں نجی اور سرکاری بینکوں کی ایک سو کے قریب برانچیں ہیں جن میں سترہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں جبکہ سات برانچوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم چودہ ایسی عمارتیں ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

66وڈیو رپورٹیں
پاکستان میں زلزلے کی وڈیو رپورٹیں دیکھیں
66امدادی پروازیں
امدادی کام میں ہیلی کاپٹروں کا استعمال
66بالا کوٹ: زندگی لوٹی
مگر ابھی تک امداد نہ پہنچنے کی شکایت موجود
66زندگی کی جنگ
نو روز مکئی کے دانے کھا کر بہن بھائیوں کو بچایا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد