BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھیل کے میدان بھی زلزلہ کی نذر

زلزلہ کے بعد گراونڈز امدادی کاموں کے مرکز بن گئے ہیں۔
مانسہرہ میں کھیلوں کے دو ہی تھے لیکن زلزلے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے ہاتھ سے چلے گئے۔

صوبہ سرحد کے زلزلے سے سب سے ذیادہ متاثرہ ضلع مانسہرہ میں کھیلوں کے سرکاری میدان دو ہی تھے لیکن آّٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے ہاتھ سے چلے گئے۔

ان میدانوں میں یا تو ہیلی پیڈ یا خیمہ ہسپتال قائم کیے ہے۔ زلزلہ متاثرین کے لئے ان میدانوں کا اسستعمال کئی ماہ نہیں بلکہ برسوں تک ہوگا تو ایسی صورتحال میں یہاں کھیل اور کھلاڑی کا کیا ہوگا؟

مانسہرہ میں کھیلوں کے لیے سہولتوں کا فقدان پہلے ہی تھا لیکن زلزلے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی۔شہر کے دو بڑے میدان فوج یا امدادی کارکنوں کے قبضے میں چلے گئے جبکہ باقی کھلے مقامات پر خـیمہ بستیاں قائم ہوگئیں۔

اگرچہ ہنگامی حالات میں یہ بھی ضروری تھا لیکن اس صورتحال نے کھیلوں کے میدانوں کی کمی کے مسلہ کی جانب توجہ دلائی ضرور ہے۔

مانسہرہ سٹیڈیم آٹھ اکتوبر سے ہیلی پیڈ کا کام دے رہا ہے جبکہ ظفر میدان میں ایک بین الا قوامی غیرسرکاری تنظیم کے بڑے بڑے جدید خیمے نصب ہیں جن میں ایک عارضی ہسپتال قائم ہے۔

ظفر میدان میں گورنمٹ مڈل سکول بھی قائم ہے جس کے طلبہ کبھی اس بڑے میدان میں کھیلا کرتے تھے۔ لیکن آج کل وہ میدان کو صرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں کھیل نہیں سکتے۔

اس سکول کی چھت زلزلے نے اور میدان امدادی کارکنوں نے لے لیا ہے۔ طلبہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جس دن بارش ہو تو اس روز چھٹی۔ یہاں قائم عارضی ہپستال فل الحال ایک برس تک تو چلے گا جس میں توسیع کا بھی امکان ہے۔

سکول کے آٹھویں جماعت کے طالب علم شاہد اقبال نے بتایا کہ وہ بھی فٹبال ٹیم کا کھلاڑی ہے لیکن اب دو ماہ سے نہ کوئی پریکٹس نہ کوئی کھیل کھیل سکا ہے۔ فٹبال کا ایک بڑا مقابلہ پہلے ہی ملتوی ہوچکا ہے۔

سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد سلیم کو بھی میدان ہاتھ سے چلے جانے پر شدید اعتراض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میدان میں ہاکی، فٹبال، کرکٹ غرض ہر قومی اور مقامی کھیلوں کے مقابلے ہوتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری کے علاوہ غیرسرکاری مقابلوں کے لئے بھی یہی میدان استعمال ہوتا تھا۔

ان سے پوچھا کہ حکومت انہیں متبادل جگے فراہم کر رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس جگے سے کافی دور ہے اور کھلاڑیوں کو آنے جانے کی تکلیف ہوگی۔ پھر وہ جگہ تیار ہونے میں بھی سال دو سال لگ سکتے ہیں۔

مانسہرہ کے سینئر صحافی میاں محمد حسین کھیل کی سہولتوں کی کمی سے ممکنہ خطرات اور خدشات کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کہیں یہ فارغ بچے بےراہ روی کا شکار نہ ہوجائیں۔

’تعمیری سرگرمیوں کے لیے مواقعہ نہ ہونے کی صورت میں معاشرے کے لیے یہ ایک بڑا مسلہ بن سکتا ہے۔‘

مانسہرہ کے ضلعی ناظم سردار محمد یوسف کے سامنے میں نے یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کالج یا سکول کے تمام میدان فیلڈ ہسپتالوں کے لئے حاصل کر لئے گئے تھے۔ لیکن اگر یہ جلد خالی نہ ہوئے تو ان کی جگہ متبادل میدانوں کا ضرور انتظام کیا جائے گا۔

’یہ تو طلبہ کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہم سٹیڈیم کی توسیع کر سکتے ہیں یا کوئی اور انتظام کر سکتے ہیں۔ اور ہم یہ کریں گے۔‘

امدادی سرگرمیاں اپنی جگہ اور یہ کئی مقامات پر توقع ہے کہ برسوں تک چلیں گی لیکن حکام کے لیے بڑا چیلنج اب یہی ہے کہ ان سے لوگوں کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں تو بہتر ہے۔

اسی بارے میں
سرحد: سکول کھولنے میں مسائل
10 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد