BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 November, 2005, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا کی مذمت

صحافیوں کی تنظیم نے پیمرا کی کارروائی کو اظہارِ رائے کے منافی قرار دیا ہے
کراچی میں ایف ایم مست ریڈیو سٹیشن بند کرنے اوردفتر سے آلات ضبط کرنے کے خلاف منگل کے روز جہاں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں معاملہ اٹھایا گیا وہاں ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، نے بھی اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔

سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی ’پیمرا، کے چھاپہ مارکر نشریات روکنے اور آلات ضبط کرنے کے متعلق متنازعہ قانون ابھی منظور ہی نہیں ہوا ہے لیکن اس ادارے نے اس قانون کے تحت اختیارات کا استعمال شروع کردیا ہے۔

انہوں نے مست ریڈیو کی نشریات بند کرنے کی مذمت کی اور آلات ضبط کرنے پر تشویش بھی ظاہر کی۔ لیکن حکومت کی جانب سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔

ادھر پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم ’پی ایف یو جے، کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے مست ریڈیو کے دفتر پر پولیس چھاپے اور آلات ضبط کرنے اور دو سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز ’رنگ، اور ’وائیب، سے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام نشر کرنے سے روکنا اظہار رائے کی آزادی کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ کہ اگر متعلقہ ادارے کسی عدالتی حکم کے خلاف پروگرام نشر کر رہے تھے تو پیمرا، کو توہین عدالت کا مقدمہ کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق جس قانون کے تحت پیمرا، نے پولیس اہلکاروں کے ذریعے ازخود کارروائی کی ہے وہ ابھی پارلیمان سے منظور ہی نہیں ہوا۔

’پی ایف یو جے، کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس متنازعہ قانون کے بارے میں ان کے خدشات اس چھاپے کے بعد درست ثابت ہوئے ہیں کہ حکومت قومی مفاد، میں کسی کے خلاف بھی کارروائی کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے شعبے میں انقلاب کے بعد بی بی سی سمیت کسی بھی غیر ملکی چینلز کے پروگرام کو نشر کرنے پر پابندی عائد کرنا حکومت کی نادانی ہوگی۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکام نے تین اداروں کو بی بی سی اردو کی نشریات کو نشر کرنے سے پیر کے روز روک دیا تھا۔ یہ تینوں ادارے جن میں ایک ریڈیو اور دو ٹی وی چینل شامل ہیں، گزشتہ ماہ آنے والے زلزلے کے بعد سے بی بی سی اردو سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام نشر کر رہے تھے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ نشرِ مکرر کرنے والے اداروں نے ذرائع ابلاغ کے ان ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے جس کے تحت غیر ملکی نشریاتی اداروں کا مواد دوبارہ نشر نہیں کیا جا سکتا۔

پولیس اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا کے اہلکار ایف ایم مست کے کراچی میں واقع دفتر سے نشریاتی آلات بھی اٹھا کر لے گئے۔جب کہ مست کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف قانون کوئی کام نہیں کیا۔

اس کے علاوہ حکام نے دو سیلائٹ ٹی وی چینلوں کو ٹیلی فون کر کے بی بی سی اردو کی نشریات کو نشر کرنے سے روک دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایسا اس دن کیا گیا ہے جب وائس آف امریکہ کو پاکستان میں نشریات شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

حکام کے اس اقدام کے باوجود بی بی سی اردو کی نشریات میڈیم ویو اور شارٹ ویو پر معمول کے مطابق سنی جا سکیں گی۔

اسی بارے میں
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
مست ’ٹیم‘ کی رہائی
11 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد