BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2003, 15:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے‘

شکارپور مظاہرہ
سندھ کے صحافی گزشتہ ہفتے سے سراپا احتجاج ہیں

سندھ کے صحافی گزشتہ ہفتے سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں کی جارہی ہیں، ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ کراچی سے کشمور تک صوبہ سندھ کا ہر چھوٹا بڑا شہر اس احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ اور ان کا مطالبہ ہے کہ شکارپور میں روزنامہ ’کاوش‘ کے نامہ نگار امیر بخش بروہی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور صوبے میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

ضلع جیکب آباد کے شہر کندھ کوٹ میں صحافی شاہد سومرو کے قتل کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں شکارپور کی مصروف شاہراہ پر امیر بخش بروہی کو چار گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

کوئی گواہ نہیں
سرداروں کے گھر کی حیثیت رکھنے والے شہر شکارپور میں ابھی تک کوئی بھی شخص گواہی دینے کے لئے تیار نہیں۔

لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قتل ہونے والے امیر بخش کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے کیونکہ سرداروں کے گھر کی حیثیت رکھنے والے شہر شکارپور میں ابھی تک کوئی بھی شخص گواہی دینے کے لئے تیار نہیں۔

امیر بخش بروہی گزشتہ تیرہ سال سے صحافت سے وابستہ تھے اور قبائلی جھگڑوں، سرداری جرگوں اور کارو کاری جیسی رسوم میں جکڑے ہوئے ضلع شکارپور سے بڑی جرات مندی کے ساتھ رپورٹنگ کرتے رہے۔ بروہی کے اہل خانہ کے مطابق امیر بخش کو رپورٹنگ کرنے پر بعض بااثر لوگوں کی جانب سے کچھ عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

امیر بخش
قتل سے قبل امیر بخش نے کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں

شکارپور کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک قبائلی سردار جو منتخب نمائندے بھی ہیں نے امیر بخش کو تیکھے سوالات پوچھنے پر دھمکی دی تھی جس کے جواب میں موقع پر ہی بروہی نے کہا تھا: ’میں صحافی دوستوں سے گزارش کروں گا کہ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچے تو اس کی ایف آئی آر اس سردار کے خلاف درج کی جائے۔‘

گزشتہ برسوں میں صوبے کی سیاسی اور سماجی زندگی میں صحافت کا کردار بہت بڑھ گیا ہے۔ پریس کلب ہائیڈ پارک بنے ہوئے ہیں۔ ہر شہر میں ہونے والا احتجاج اور مظاہرہ تب تک نامکمل سمجھا جاتا ہے جب تک وہ پریس کلب تک نہ پہنچے۔

یوں ستایا ہوا ہر طبقہ، گروہ اور فرد پریس کلب پہنچنے کو ایف آئی آر درج کروانے کے مترادف سمجھتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پولیس بھی کسی وڈیرے یا بااثر آدمی کی اجازت کے بغیر شکایت درج نہیں کرتی وہاں اخبارات میں چھپنے والی فریادیں اور شکایات طاقتور طبقوں یعنی وڈیروں اور سرداروں کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھنے لگتی ہیں اور یہ با اثر لوگ صحافیوں کو سبق سکھانے کی ٹھان لیتے ہیں۔

حالات کا اصل رخ
امیر بخش قبائلی جھگڑوں، سرداری جرگوں اور کارو کاری جیسی رسوم میں جکڑے ہوئے ضلع شکارپور سے بڑی جرات مندی کے ساتھ رپورٹنگ کرتے رہے۔

صحافی اور کالم نگار نثار کھوکھر کہتے ہیں کہ گزشتہ سال بیس اکتوبر کو ہلاک ہونے والے صحافی شاہد سومرو کے بارے میں بھی جاگیرداروں کا یہی رویہ تھا کہ یہ دو ٹکے کا صحافی ہم سے زیادہ طاقتور ہو گیا ہے اور ہمارے خلاف کام کرنے لگا ہے۔

وزیر اعلی سندھ کے آبائی ضلع گھوٹکی میں کام کرنے والے اللہ ورایو بوزدار بتاتے ہیں کہ جن کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوتی ہے وہ لوگ ’ہمارے پاس آتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں۔ پہلے یہ لوگ داد رسی کے لئے وڈیرے یا سردار کے پاس جاتے تھے۔ یوں نظرانداز ہونے کی وجہ سے پولیس اور سردار دونوں صحافیوں سے ناراض ہیں اور ان کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔‘

خود اللہ ورایو بوزدار پر پابندی ہے کہ جب وزیر اعلیٰ سردار غلام محمد مہرگھوٹکی میں موجود ہوں تو وہ گھر سے باہر نہیں نکلیں گے۔ یوں اللہ ورایو ہر پندرہ دن کے بعد’رضاکارانہ‘ طور پر اپنے آپ کو گھر میں نظربند کر لیتے ہیں۔ انہوں نے چند ماہ قبل وزیر اعلی سے ان کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے ریفرنس داخل کئے جانے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ اپنی ’رعایا‘ کے سامنے ایسی بات کہی جانے پر سردار مہر نے برا مانا اور آئندہ اپنے پروگراموں میں بوزدار کی شرکت پر پابندی عائد کردی۔

میرپور خاص ضلع کے سامارو شہر کے صحافی سریش کمار مقامی سردار غلام مصطفی خاصخیلی کے زیر عتاب ہیں۔ ان کی بیوی کا، جو محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت کرتی ہیں، تبادلہ کوسوں دور دوسرے ضلع میں ہو گیا ہے جس کے بارے میں سریش کہتے ہیں کہ یہ سردار صاحب نے کروایا ہے۔ بقول ان کے سردار کی فرمائش تھی کہ نہ صرف ان کے خلاف کوئی شکایت اخبار میں شائع نہ ہونے پائے بلکہ ہر دوسرے روز تصویر کے ساتھ ان کا بیان بھی چھپتا رہے۔ سریش کو ایسا نہ کرنے پر خراب نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں شہداد کوٹ میں صحافی شاہد سومرو کو بجارانی قبیلے کے سردار شیر محمد بجارانی کے بیٹے وحید اور اس کے محافظ نے قتل کردیا جس کی ایف آئی آر بھی ان کے نام سے درج کرائی گئی۔ بعد میں معاملہ جب جرگے میں پیش ہوا تو سردار شیر محمد بجارانی نے اعتراف کیا کہ ان کے بیٹے نے بےگناہ صحافی کا قتل کیا تھا۔ انہوں نے مقتول صحافی کے ورثاء سے معافی مانگی اور آٹھ لاکھ روپے بطور معاوضہ موقع پر ہی ادا کیا۔

شاہد سومرو
ایک ہی سال قبل صحافی شاہد سومرو کا قتل ہوا تھا

بتایا جاتا ہے کہ سرداروں کو شکایت تھی کہ شاہد سومرو نےکچھ عرصہ قبل ہونے والے انتخابات میں بجارانی سردار کے بجائے ان کے مخالفین کو کوریج دی۔

شاہد سومرو اور امیر بخش بروہی کے قتل کے بعد سندھ کے صحافی عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ سندھی کے کثیر الاشاعت اخبار ’کاوش‘ کے ایڈیٹر علی قاضی کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ساری صحافتی برادری اور خاص طور پر لبرل اور ترقی پسند قوتوں کے لئے ایک خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھی صحافت نے زنجیریں توڑی ہیں اور جرات مندی سے رپورٹنگ کی ہے جو بعض بااثر افراد سے ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

سندھی کے پرانے اخبار ’عبرت‘ کے نیوز ایڈیٹر جے پرکاش کا کہنا ہے کہ سرداری اور جاگیرداری نظام کے زیر اثر علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ روزنامہ ’تعمیر سندھ‘ کے انچارج ایڈیٹر جعفر میمن بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو صحافیوں کے قتل کے بعد حقیقت پسندانہ رپورٹنگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

نثار کھوکھر کہتے ہیں کہ آج صحافی ڈپریشن کا شکار ہو گئے ہیں۔ امیر بخش بروہی کے قتل کی خبر سن کر سکھر کے صحافی شبیر بھٹو پر دل کا دورہ پڑا اور وہ ابھی تک ہسپتال میں ہیں۔ نثار کھوکھر کا کہنا ہے کہ خبر چاہے کتنی ہی سچی کیوں نہ ہو اور تمام ثبوت بھی موجود ہوں پھر بھی اب رپورٹ کرنے سے پہلے دس مرتبہ سوچنا پڑے گا کہ اس خبر کے چھاپنے پر کوئی مصیبت تو نازل نہیں ہوگی؟ یوں پیشہ وارانہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ مشکل ہو گئی ہے۔

 سرداری اور جاگیرداری نظام کے زیر اثر علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے

سندھی اخبار کے مدیر جے پرکاش

آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائیز کنفیڈریشن کی اپیل پر بدھ کے روز کراچی میں سینکڑوں صحافیوں نے مظاہرہ کیا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا۔ صحافی وزیر اعلی سے ملاقات کر کے انہیں قاتلوں کی گرفتاری اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے یاداشت پیش کرنا چاہ رہے تھے لیکن ان کی ملاقات نہیں ہو سکی۔

اس موقع پر پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اگر اتوار کے روز تک امیر بخش کے قاتل گرفتار نہیں کئے گئے تو صحافی سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور سرکاری خبروں کا بائکاٹ کریں گے۔ انہوں نے اخباری مالکان سے بھی کہا ہے کہ وہ بطور احتجاج ایک دن کی ہڑتال کریں۔

صحافیوں کی تنظیموں کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور آزادی صحافت کو بچانے کےلئے ایک بھر پور جدوجہد کرنے کا وقت آگیا ہے۔

اس بارے میں

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد