وزیرستان کا سچ معلوم نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان سرحد کے ساتھ واقع شمالی اور جنوبی وزیرستان کی قبائلی ایجنسیوں میں پرتشدد کارروائیاں مبینہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھیں۔ تاہم ان میں تیزی اس وقت آئی جب مارچ دوہزار چار میں القاعدہ کے ڈاکٹر ایمن الزواہری کی علاقے میں موجودگی کی قیاس آرائیوں پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑا آپریشن شروع کیا۔ ان کاروائیوں کے دوران عام شہریوں، مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ہلاکت کے بارے میں فریقین کی جانب سے اکثر متضاد دعوے سامنے آتے رہے اور تقریباً ہربار ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور تعداد متنازعہ رہی۔ اس کا سب سے بڑا سبب ان قبائیلی علاقوں تک صحافیوں کی رسائی نہ ہوناہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیلاب محسود نے بتایا کہ جب سے امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا ہے اس کے بعد قبائلی علاقوں میں صحافت کی صورتحال نہایت پچیدہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ صحافیوں اور ان کے گھروں پر حملے ہوتے ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں رہائش پذیر تمام اخبار نویس اپنے اپنے گھروں اور علاقوں کو چھوڑ کر بندوبستی علاقوں جیسے بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان ، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں کو چلے گئے ہیں۔ سیلاب محسود کا کہنا ہے کہ اگر کسی خبر سے پولیٹیکل انتظامیہ ناراض ہوجاتی ہے تو اخبار نویسوں کو قبائلی علاقوں میں رائج قانون ایف سی آر کی شق چالیس کے تحت قید کر دیا جاتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی قبائلی سردار یا بااثر ملک کو کسی خبر سے نقصان کا احتمال ہو تو وہ قبائلی لشکر جمع کر کے صحافیوں کے گھروں پر لشکر کشی کرتے رہے۔ صحافیوں کے رہنما نے مزید بتایا کہ اگر کوئی عالم دین یا شدت پسندوں کے رہنما کسی بیان سے ناراض ہوجاتے تو اسلامی اور شرعی قوانین کے تحت ان کے قتل کرنے کے فتوی جاری کیے جاتے رہے۔ کشیدگی کی اس فضا میں مقامی صحافیوں کو دونوں جانب سے یعنی سکیورٹی فورسز اور مزاحمت کاروں کی طرف سے دباؤ کا سامنا رہا بعض حالات میں دھمکی اور لالچ سے کام لیاگیا اور جب یہ کارگر نہ ہوئے تو صحافیوں پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کیاگیا۔ فروری دو ہزار پانچ میں وانا کے نزدیک صحافیوں کی ایک گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ اس حملے میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر بال بال بچے تھے۔ واقعے کی تفصلات بیان کرتے ہوئے دلاورخان نے بتایا کہ وانا کے نزدیک واپڈا کالونی کے پاس ایک نامعلوم سفید رنگ کی کار میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس سے دو صحافی اللہ نور وزیر اور امیرنواب خان موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور صحافی انورشاکر زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں ایک غیر معروف تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ صحافیوں کی ہلاکت کے اس واقعے کے بعد سے وزیرستان میں مقامی اخباری نمائندوں کی نقل و حرکت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کچھ صحافیوں نے تو یہ پیشہ ہی چھوڑ دیا جبکہ ان میں دو وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے پولیٹکل انتظامیہ کے مبینہ دباؤ میں آکر صحافت کو خیرآباد کہہ دیا اور سرکاری نوکری اختیار کرلی۔ وانا شمالی وزیرستان میں مزاحمت کاروں کے ایک رہنما حاجی عمر نے بتایا کہ صحافی تو ان کے دوست ہیں۔’ہم نے کبھی صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی نہیں لگائی۔ وہ بازار آتے ہیں ہم سے ملتے ہیں۔یہ تو حکومت ہے جو ان پر پابندیاں لگاتی ہے۔‘ ایک غیر ملکی فوٹو ایجنسی کےلیے کام کرنے والے مقامی صحافی حیات اللہ خان وزیر گزشتہ چار ماہ سے لاپتہ ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ انہوں نے اس میزائل کے ٹکڑوں کی تصویر بنائی تھی جس سے القاعدہ کے ایک مبینہ رہنما ابو حمزہ ربیعہ کو دسمبر دو ہزار پانچ میں شمالی وزیرستان میں نشانہ بنایاگیا جبکہ صدرپاکستان پرویزمشرف کا دعوی تھا کہ ربعیہ اپنے گھر میں بم بناتے ہوئے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔ رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز یا آر ایس ایف نے اپنے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ”جس دن میزائل کے ٹکڑوں کی تصویر مغربی اخبارات میں شائع ہوئی اس کے چند دن بعد حیات اللہ کو بعض نامعلوم نقاب پوشوں نے میران شاہ میں واقع ان کے گھر کے نزدیک سے اغواء کرلیا۔
وہ اب تک لاپتہ ہیں نہ حکومت ان کی گرفتاری کا اعتراف کرتی ہے اور نہ ہی کسی شدت پسند گروہ نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تقریباً پچیس مواقعوں پرقبائلی علاقوں میں صحافیوں کو یا تو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے آلات چھینے گئے یا ان کو رپورٹنگ سے روکا گیا۔ حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے حال ہی میں صحافیوں کے حقوق کےلیے کام کرنے والے ایک عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے کے ساتھ ایک انٹرویو میں دعوی کیا کہ ان کے بھائی کو حکومت نے امریکیوں کے حوالے کیا ہے۔ پشاور میں ایک انگریزی اخبار ’دی پوسٹ‘ کےلیے کام کرنے والے صحافی عارف یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب حیات اللہ کے گمشدگی کا معاملہ انہوں نے پشاور کے دورے پر آئے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز کے نوٹس میں لائے تو اس کے بعد ان کو حساس اداروں کی جانب سے خطرناک نتائج کی دھمکی دی گئی اور ان کے موبائل فون پر کئی دن تک گمنام اور دھمکی آمیز کالیں آتی رہی۔ تاہم فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان ان تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انکے بقول صحافت پاکستان کے اندر کبھی بھی اتنی آزاد نہیں رہی جتنی آجکل ہے۔ شوکت سلطان نے اس بات کا اقرار کیا کہ چند مواقع پر وزیرستان میں صحافیوں کو اجازت نہیں دی گئی کیونکہ سکیورٹی کے حالات ٹھیک نہیں تھے مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میڈیا پر پابندیاں تھیں۔ ” کیا بی بی سی کے نمائندے آپ کو وزیرستان سے رپورٹ نہیں کررہے یا حکومت پہلے ان کی رپورٹس کو سنسر کرتی ہے؟
فوجی ترجمان نے اس دعوے کو باربار دہرایا کہ پاکستان کے اندر اجکل ذرائع ابلاغ کو جتنی آزادی حاصل ہے پہلے کبھی نہیں رہی۔ جب سے وزیرستان میں کشیدگی کی فضا قائم ہوئی ہے تو اس کے بعد سے حکام بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ ایک معمولی شورش ہے جو بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ حکومت اس معمولی شورش پر قابو پانے کےلیے جنگی طیارے ، گن شپ ہیلی کاپٹر، لانگ رینج میزائل اور بھاری توپ خانے کا استعمال کرتی رہی ہے۔ وزیرستان میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں، کتنے عام شہری مارے گئے؟ اس سلسلے میں اخبارات، رسائل اور ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کو صرف سرکاری ذرائع پر انحصارکرتے رہے ہیں اور ان کے پاس آزادانہ ذرائع سے مختلف واقعات اور حکومتی دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں تھی۔ اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرکاری سطح پر جو کچھ ذرائع ابلاغ کو بتایا جاتا ہے وہی حقیقت ہے؟ | اسی بارے میں وزیرستان جرگے کے مطالبات مسترد12 April, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن میں ٹرانسمٹر تباہ31 March, 2006 | پاکستان قبائلی صحافت کی نیرنگی30 October, 2003 | پاکستان بنوں کے لوگوں میں غصہ06 September, 2003 | پاکستان کشمیر: ادھر کے صحافی اس طرف 23 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||