BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان جرگے کے مطالبات مسترد

جرگے میں تقریًبا دس ہزار قبائلیوں نے شرکت کی تھی
حکومت پاکستان نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ سوموار ایک جرگے کی جانب سے علاقے سے فوج کے انخلاء اور اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی کے خاتمے جیسے مطالبات مسترد کر دیئے ہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ یہ جرگہ قبائلی عوام کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں وفاقی حکومت کے نمائندے کے طور پر قبائلی علاقوں کا نظم ونسق چلانے والے گورنر کے سیکریٹریٹ سے بدھ کو جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا کہ قبائلی علاقے میں فوج قومی مفاد میں تعینات کی گئی ہے۔ فوج باوثوق ذرائع کی اطلاع پر غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے یا پھر سکیورٹی فورسز پر حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کرتی ہے۔

شمالی وزیرستان کی میر علی تحصیل میں اتمانزئی قبیلے کے منعقد ایک جرگے میں جس میں تقریًبا دس ہزار قبائلیوں نے شرکت کی تھی، حکومت سے فوج کو سرحد تک محدود کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جرگے نے اسلحے پر پابندی کو بھی مسترد کر دیا تھا۔

تاہم سرکاری ترجمان کا موقف تھا کہ یہ جرگہ حکومت مخالف عناصر پر مشتمل تھا اور یہ قبائلی عوام کی درست نمائندگی نہیں کرتا تھا۔ ’بہت سے نامی گرامی قبائلی عمائدین اس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ کئی بااثر مذہبی رہنما بھی اس سے دور رہے۔ یہ جرگہ دراصل حکومت مخالف اقلیت پر مشتمل تھا‘۔

فوج کی بے دخلی کے مطالبے کے بارے میں ترجمان نے وضاحت کی کہ اس نے کبھی کسی بےقصور کے خلاف کارروائی نہیں کی بلکہ اس کا ہدف غیرملکی شدت پسند رہے ہیں تاکہ علاقے میں پائیدار امن استوار کیا جاسکے اور قبائلی اپنی روایات کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔

ادھر جنوبی وزیرستان میں آج ایک مسجد کے امام کی لاش ایک گڑھے سے ملی ہے۔

پچاسی سالہ حاجی فیروز خان صدر مقام وانا سے دس کلومیٹر دور دژا غنڈئی گاؤں میں مسجد کے امام تھے۔ انہیں منگل کی رات نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

ان کے قتل کی وجہ واضح نہیں ہوسکی لیکن گزشتہ چار برسوں کے دوران سینکڑوں حکومت نواز قبائلی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد