فوج قبائلی علاقے سے نکل جائے:جرگہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں قبائلیوں نے حکومت کی جانب سے اسلحے پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے علاقے سے فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ میر علی میں جمعہ کی صبح منعقد مقامی اتمانزئی، داوڑ اور وزیر قبیلوں کے اس مشترکہ جرگے میں ہزاروں کی تعداد میں قبائلیوں نے شرکت کی۔ جرگے سے مولوی صدر عبدالرحمان، مولوی سلیم گل، ملک خان مرجان اور مولوی حسین احمد صادق سمیت کئی قبائلی عمائدین نے خطاب کیا اور حکومت کی جانب سے اسلحہ لے کر چلنے کی پابندی کو مسترد کر دیا۔ جرگے نے سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کی قائم چوکیوں کو بھی ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ جرگہ حکومت کی جانب سے گزشتہ دنوں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں چالیس افراد کی ہلاکت کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیئے طلب کیا گیا تھا۔ ادھر شوال میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہونے والے نو افراد کی لاشیں جو میران شاہ لائی گئی تھی شناخت کے بعد لواحقین ساتھ لے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں چالیس قبائلیوں کی ہلاکت کا دعویٰ06 April, 2006 | پاکستان شدت پسندی کا ’جن‘ بے قابو04 April, 2006 | پاکستان فاٹا: کونسلروں کی دھمکی21 February, 2006 | پاکستان فوج سرحدوں پر توجہ دے : جرگہ 24 July, 2005 | پاکستان ’قبائلی علاقوں میں اصلاحات کریں‘ 31 August, 2005 | پاکستان پاکستان میں چھوٹے اسلحے کی برائی08 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||