’قبائلی علاقوں میں اصلاحات کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی نے قبائلی علاقوں میں اصلاحات جلد نافذ کرنے کی غرض سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اے این پی نےاصلاحات کے سلسلے میں گورنر سرحد کی قائم کمیٹی کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ ماضی میں بھی کئی سیاسی جماعتیں قبائلی علاقوں میں اصلاحات کےمطالبے کے حق میں تحریکیں چلا چکی ہیں لیکن وہ بظاہر وقتی ثابت ہوئیں۔ تاہم اب بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے ملنے والے حوصلے نے بظاہر عوامی نیشنل پارٹی کوایک مرتبہ پھر اس مسئلے کو اٹھانے پرمجبور کیا ہے۔ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکٹری افراسیاب خٹک نے کہا کہ اصلاحات سے متعلق رائے عامہ استوار کرنے کی غرض سے عید الفطر کے بعد پشاور میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کانفرنس کےانعقاد اور اس مہم کا آگے بڑھانے کے لیے اے این پی نے چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں افراسیاب کےعلاوہ لطیف آفریدی، شہاب الدین اور عمران آفریدی بھی شامل ہیں۔ قبائلی علاقوں کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا وہاں فوج تو چلی گئی لیکن سیاسی جماعتوں کو جانے کی اجازت نہیں، فوج تو جا سکتی ہے لیکن عدلیہ کی پہنچ نہیں۔ اے این پی نےقبائلی علاقوں کو مرکز کی بجائے صوبے کے زیر انتظام لانے اور قبائلیوں کوسرحداسمبلی میں نمائندگی دینے کے مطالبات بھی کیے۔ گورنر سرحد کی جانب سے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کو عوام کو مصروف رکھنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||