سرحد میں خسارے کا بجٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے اتوار کو پشاور میں اپنا تیسرا سالانہ بجٹ پیش کیا۔ چھیاسی ارب انیس کروڑ روپے کے اس خسارے کے بجٹ میں صوبائی حکومت نے سرکاری لین دین کو سود سے پاک بنانے کے لیے کئی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے جوکہ وزارت خزانہ کا قلمدان رکھتے ہیں سرحد اسمبلی میں اتوار کی سہ پہر مالی سال دو ہزار پانچ۔ چھ کے لیے بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر سود سے چھٹکارے کے لیے کئی اقدامات تجویز کئے جن میں سر فہرست گندم کی خریداری کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے ہر سال بنکوں سے سود پر رقم کا حصول بند کرنا شامل ہے۔ مروجہ طریقہ کار کے تحت صوبائی حکومت گندم کی یہ خریداری ہر برس کٹائی کے وقت کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ بنکوں سے رقم سود پر لیتی ہے۔ یہ گندم بعد میں فلور ملوں کو سارا سال فروخت کی جاتی ہے۔ صوبائی حکومت اس سے حاصل کی گئی رقم بعد میں سود کے ساتھ بنکوں کو لوٹا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی صوبائی محکموں اور اداروں نے اپنی رقوم بنکوں میں رکھی ہیں جن پر وہ سود وصول کرتے رہتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ گندم کی خریداری اسلامی بینکاری کے تحت کی جائے گی جبکہ ان محکموں کو بھی اپنی رقوم نکال کر اسلامی بینکاری کے ذریعے انہیں زیر استعمال لائیں گے۔ صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سرکاری اداروں کو بطور شراکت دار زیادہ فائدہ پہنچے گا اور گندم کی لین دین بھی بلاسود ہوگی۔ سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں صوبائی حکومت کے زیر انتظام بینک آف خیبر کی تمام شاخوں کو اسلامی بینکاری شروع کرنے کے لیے ایک ترمیم منظور کی تھی۔ صوبائی وزیر سراج الحق کے مطابق اسلامی بینکاری نے قلیل وقت میں ریکارڈ ترقی کی ہے۔ بینک آف خیبر کی اس وقت تین شاخیں اسلامی بینکاری کے اصولوں کے تحت کام کر رہی ہیں جبکہ مزید سات شاخوں میں جاری اسلامی کاونٹرز کو آئندہ مالی سال میں مکمل اسلامی بینکنگ کا آغاز کر دیں گی۔ نئے بجٹ میں صوبائی حکومت نے حسب روایت تعلیم کے فروغ کو پہلی ترجیح دی ہے۔ اس اہم شعبے کے لیے چودہ ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک نئی تجویز پشاور میں ایجوکیشن سٹی کا منصوبہ ہے۔ تجویز کے مطابق اس مقصد کے لیے پشاور میں کئی منزلہ عمارت تعمیر کی جائے گی جس میں پچیس ہزار طالب علموں کو پہلی جماعت سے انٹر میڈیٹ تک مفت تعلیم مختلف شفٹوں میں دی جائے گی۔ یہ عمارت تمام جدید سہولتوں سے آراستہ ہوگی جبکہ طلبہ کو ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔ البتہ طالبات کے لیے علیحدہ ایجوکیشن سٹی قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ پشاور میں اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے صوبے کے دیگر شہروں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال میں ماس ٹرانزٹ سسٹم یا کمیوٹر ٹرین کے منصوبہ کے لیے پہلی مرتبہ فیزبلٹی سٹڈی کروائی جائے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ کے اعلان میں تاخیر پر صوبائی وزیر نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکز کے ممنون ہوتے اگر وہ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کے اعلان کردہ چھ ارب روپے پر منجمد شدہ بجلی کے خالص منافع کی رقم میں دو ارب کے اضافے کو عملی جامعہ پہنا دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو اس وجہ سے شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||