چھوٹے کاروبار پر سیلز ٹیکس ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں جمعرات کو سن دو ہزار پانچ اور چھ کے لیے صوبائی حکومت کی سالانہ بجٹ تجاویز پیش کی گئیں جن میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ چھ چھوٹے کاروباروں پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ مالی بل میں یکم جولائی سے جن کاروباروں پر سے سیلز ٹیکس ختم کرنے کے لیے کہا ہے ان میں بیوٹی پارلر، ڈاکٹروں کے کلینک ، سلِمنگ کلینک ، لانڈریاں اور شادی ہال اور لان شامل ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ حسنین بہادر دریشک نے دعویٰ کیا کہ رواں مالی سال میں پنجاب کے جی ڈی پی میں آٹھ فیصد شرح نمو رہی جس میں زراعت میں ترقی کی شرح تقریباً ساڑھے دس فیصد اور تعمیراتی صنعت میں ترقی کی شرح تیرہ فیصد سے زیادہ تھی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پنجاب میں اس سال دس لاکھ نئے لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ انہوں نے بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نئےمالی سال کے لیے مجوزہ بجٹ کا حجم دو سو چوبیس ارب روپے ہے جو گزشتہ سال کے بجٹ سے چوبیس فیصد زیادہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبہ ترقیاتی اخراجات پر اکہتر ارب روپے خرچ کرے گا جس میں سے ترپن ارب روپے صوبائی حکومت، دس ارب روپے مقامی حکومتوں اور آٹھ ارب روپے نیم سرکاری اداروں کے ذریعے مہیا کیے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ صوبہ میں ماحولیاتی مسائل کے پیش نطر پہلی بار ایک ارب روپے کی مالیت سے گرین فنڈ کا اجراء کیا جارہا ہے جس سے ماحولیاتی تحفظ کی متعدد سکیموں کے لیے رقوم مختص کی جائیں گی۔ پنجاب میں صوبائی فنانس فنڈ کے ذریعے مقامی حکومتوں کے لیے بجٹ میں نوے ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جنہیں عمومی طور پر ہر ضلع کی آبادی کے اعتبار سے مہیا کیا جاتا ہے۔ اگلے مالی سال سن دو ہزار پانچ اور چھ کے لیے رکھی گئی رقم رواں سال سے بائیس فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جب بجٹ پیش کیا جانے لگا تو اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے کھڑے ہوکر سپیکر افضل ساہی سے کہا کہ وہ اپنے اپنے پارلیمانی رہنماؤں کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ انہیں ان کا پارلیمانی رہنما تسلیم کریں۔ تاہم سپیکر نے ان کی بات تسلیم نہیں کی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کے شور شرابے کے دروان میں وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر پڑھتے رہے۔ سپیکر نے حزب اختلاف سے منحرف ہوکر حکومتی جماعتیں شامل ہونے والے ارکان کے خلاف پارلیمانی رہنماؤں کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنسوں کی سماعت یہ کہہ کر کرنے سے انکار کردیا تھا کہ وہ پہلے یہ ثابت کریں کہ وہ ان جماعتوں کے پارلیمانی قائد ہیں۔ بجٹ تقریر کے دوران میں حزب اختلاف کے ارکان سپیکر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئے اور اسمبلی سے باہر جاکر انہوں نےاسپیکر کے خلاف نعرے بازی کی اور ان پر لوٹا کریسی کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ قائد حزب اختلاف قاسم ضیاء نے کہا کہ ان کا احتجاج بجٹ کے خلاف نہیں بلکہ سپیکر کے جانبدارانہ رویہ کے خلاف ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||