BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 June, 2005, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں چھوٹے اسلحے کی برائی

پاکستان کے قبائلی علاقے
صوبہ سرحد میں تیس لاکھ غیرقانونی کلاشنکوفیں ہیں جبکہ جی تھری، ایم سولہ، پستول اور بندوقیں اس کے علاوہ ہیں: رپورٹ
ماہرین کے مطابق پاکستان کا شمار اس وقت غیرقانونی چھوٹا اسلحہ رکھنے کے اعتبار سے سے دنیا کے پہلے چند ممالک میں ہوتا ہے۔

ایک بین الاقوامی تنظیم کے اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو کروڑ سے زائد تعداد میں چھوٹا غیرقانونی اسلحہ جس میں کلاشنکوف، رائفل اور پستول وغیرہ شامل ہیں پایا جاتا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں یہ تعداد دوگنی یعنی چار کروڑ ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق صوبہ سرحد میں تیس لاکھ غیرقانونی کلاشنکوفیں ہیں جبکہ جی تھری، ایم سولہ، پستول اور بندوقیں اس کے علاوہ ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قبائلی علاقوں میں موجود اسلحے کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا مشکل کام نہیں ہے۔

یہ اعدادوشمار بدھ کو پشاور میں دو غیرسرکاری تنظیموں سپاڈو اور کمیونٹی اپریزل اینڈ موٹیویشن پروگرام نے چھوٹے اسلحے کے خلاف عالمی سطح پر منائے جانے والے ہفتے کے سلسلے میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں پیش کیے۔

سپاڈو کے ایک سروے کے مطابق پشاور میں اٹھانوے فیصد قتل یا اقدام قتل کے واقعات میں چھوٹا اسلحہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ سپاڈو کے رضا شاہ نے بتایا ’اگر یہ اسلحہ لوگوں کے پاس نہ ہو تو وہ غصے کی حالت میں اس کا استعمال بھی نہیں کر سکیں گے جس سے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں‘۔

ٹینک اور جنگی طیاروں کی نسبت چھوٹے اسلحے کو زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے ان غیرسرکاری تنظیموں نے اس پر قابو پانے کی اب تک کی تمام سرکاری کوششوں کو ناکافی قرار دیا۔

رضا شاہ کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ سن دو ہزار میں اسلحہ سے پاک معاشرے کے لیے چلائی جانے والی مہم کی یقیناً ضرورت تھی لیکن صرف ایک مرتبہ میں اس سے وہ اہداف حاصل نہیں کئیے جا سکتے جو ایک مستقل طور پر چلائی جانے والی کوشش سے مل سکتے ہیں۔ انہوں نے چند قبائلی علاقوں میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی کو بھی اچھا قدم قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق غیرقانونی اسلحہ ہی آج کل ملک میں دہشت گردی اور فرقہ ورانہ حملوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر غیرقانونی اسلحہ کی کڑی نگرانی سے ہی اس مسئلہ پر قابو پانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد