گوجرانوالہ پولیس مقابلہ 7 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے نزدیک ایک مقابلے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والا یہ مقابلہ ایک مبینہ ڈاکو کی ہلاکت پر ختم ہوا جو جل کر ہلاک ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں تین مبینہ ڈاکو اور ایک راہگیر بھی شامل ہے۔ گوجرانوالہ کے نزدیک موڑ ایمن آباد پر مقامی افراد چوکیداری کی غرض سے اپنے طور پر پہرہ دے رہے تھے کہ بدھ کی صبح چند نامعلوم افراد کو روک کر مقامی لوگوں نے تلاشی لینے کی کوشش کی جس پر انہوں نے فائرنگ کر دی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری ایاز خان زخمی ہوا جو بعد میں دم توڑ گیا۔ پاکستان میں چوکیداری کے اس طریقے کو ٹھیکری پہرہ کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں نے موقع پر ہی ایک مبینہ ڈاکو کو پکڑ لیا باقی فائرنگ کرتے فرار ہوگئے، پکڑے جانے والے ملزم کو موقع پر پہنچ جانے والی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کی نشاندہی پر مقامی پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے جی ٹی روڈ کی مشرقی سمت میں واقع ملزمان کے مبینہ ٹھکانے پر دھاوا بول دیا ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی جس سے ایلیٹ فورس کے دو اہلکار اور تھانہ ایمن آباد کا ایک کانسٹیبل موقع پر ہلاک ہوگئے۔ پولیس کی فائرنگ سے ایک مبینہ ڈاکو اپنے گھر کے اندر ہی مارا گیا باقی فرار ہونے لگے پولیس نے ایک کو نہر کے نزدیک ہلاک کیا جبکہ تیسرا ڈاکو ایک شہری کہ گھر میں داخل ہوگیا اس دوران گھر کے مکین باہر نکل آئے۔ گوجرانوالہ کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر عارف مشتاق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ملزم نے بھی فائرنگ کی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجہ میں گھر میں کھڑی ایک موٹر سائیکل کی پٹرول کی ٹینکی کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی جس سے ملزم ہلاک ہوگیا اور اس کی سوختہ لاش گھر سے برآمد ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لاش کے پاس اس کی کلاشنکوف بھی پڑی تھی‘۔ لیکن عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس گھر پر بھوسا پھینک کر آگ لگائی تھی۔ ایس ایس پی ڈاکٹر عارف مشتاق نے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کے گھر میں موجود دو خواتین کو بھی گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی نے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ورثاء کے لیے آٹھ آٹھ لاکھ روپے اور زخمی اہلکاروں کو دو دو لاکھ روپے کے معاوضے کی ادائیگی کا اعلان کیا ہے ۔ ایس ایس پی گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مبینہ ڈاکو انہیں شکر گڑھ کے رہائشی علاقے میں قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں مطلوب تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||