ایس پی کے قاتل ’قتل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب پولیس کے ایک ایس پی کے قتل میں ملوث تین اشتہاری ملزموں کی ایک مبینہ مقابلے میں ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ان کی بہنوں کے حوالے کردی گئیں اور انہیں بہنوں کے گاؤں میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔ ان تین مفرور ملزموں کودو روز پہلے عین اسی مقام پر پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا جہاں تین مہینے پہلے انہوں نے پنجاب پولیس کے ایک ایس پی طیب سیعد کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ہلاک کیاتھا۔ نارووال کے ضلعی پولیس افسر عثمان خٹک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایاکہ تینوں ملزمان رفاقت عرف فاقو، بشارت اور نواز تین مہینے پہلے ایس پی طیب سعید کو قتل کرنے کے بعد سے مفرور تھے اور پولیس ان کی گرفتاری کے لیے نارروال کے نواحی گاؤں ڈیڑھ تلیض پور میں خفیہ نگرانی کررہی تھی۔ عثمان خٹک کے مطابق دو روز قبل رات دس بجے کے بعد ملزمان گاؤں میں اپنے ڈیرے پر پہنچے تو ان کا پولیس پارٹی سے مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تینوں ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے بتایاکہ اس مقابلے میں کوئی پولیس اہلکار ہلاک نہیں ہوا۔ ان تینوں سے تین کلاشنکوفیں بھی برآمد کیے جانے کا دعوی کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دو ملزمان رفاقت اور بشارت آپس میں حقیقی بھائی تھے۔ پولیس نے ان کی لاشیں پچیس کلومیٹر دور ایک منڈیکے بھیڑیاں میں بیاہی گئی ان کی بہن کے حوالے کی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ایس پی کی ہلاکت کے بعد سے بشارت اپنے بھائی رفاقت کے ہمراہ مفرور تھا۔ دونوں بھائیوں کی والدہ اور رفاقت عرف فاقو کی بیوی کو پولیس نے ایس پی کی ہلاکت کے بعد ہلاک ہونے والے ایک شخص منیر کے مقدمہ قتل میں گرفتار کرلیا تھا۔ اور اس بہن کے سوا ان کا کوئی اور قریبی عزیز تھا ہی نہیں جس کے حوالے ان کی لاش کی جاتی۔ مرحوم ایس پی طیب سعید نارووال میں بطور ضلعی پولیس افسر تعینات تھے اور چھ اگست کو انہوں نے ملزم بشارت کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا اور اس دوران ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے مبینہ طور دو ملزموں کو اسی وقت فائرنگ کے تبادلے میں مار دیا تھا۔ ایک ملزم جعفر حسین کو دو ہفتے پہلے لاہور میں پولیس نے مقابلے میں ہلاک کیا تھااور ان تین مزید ہلاکتوں کے بعد مقابلے میں مارے جانے والوں کی کل تعداد چھ ہوگئی ہے۔ پنجاب پولیس کے ہلاک ہونے والے پولیس افسروں میں سے طیب سعید کو اس لحاظ سے خوش قسمت یا سب سے منفرد قرار دیا جا سکتا ہے کہ ان کی ہلاکت میں ملوث اب تک نہ صرف چھ ملزموں کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے بلکہ ان کے ورثاء کو حکومت نے پچاس لاکھ روپے، رہائش اور بچوں کی مفت تعلیم جیسی امداد دی تھی جو اس سے پہلے ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے کسی پولیس افسر یا ملازم کو نہیں دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||