BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدت پسندی کا ’جن‘ بے قابو

قبائلی علاقوں میں فوجی
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکے عام ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی جو تشویشناک صورتحال گزشتہ چار برسوں سے ہے سو ہے، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شدت پسندی کا یہ ’خودساختہ‘ جن پہلے وزیرستان اور اب دیگر علاقوں تک پھیلا جا رہا ہے۔

جن کا بوتل میں واپس بند ہونا تو درکنار اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت سے یہ جن وزیرستان تک بھی محدود نہیں رہ پا رہا۔ آئے دن ایسی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں جن سے عوامی تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں اور بموں کے دھماکے، سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر راکٹوں سے حملے اور حکومت حامی افراد کا قتل تو ایک عرصے سے معمول بن چکے ہیں لیکن اب اس قبائلی علاقے میں کہیں مقامی طالبان سزائیں خود دینے لگے ہیں تو کہیں لوگوں کو داڑھی رکھنے کا حکم جاری کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ قریبی جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں گشتی پولیس پر بم حملہ ، بنوں میں راکٹوں کا داغا جانا، پشاور میں موٹر سائیکل بم دھماکہ، لکی مروت میں حکومت نواز عالم کا اغوا اور بعد میں جنوبی وزیرستان میں قتل اور ڈیرہ کے قریب میلے پر مذہبی عناصر کا حملہ جیسے واقعات اس بات کا واضع اشارہ ہیں کہ معاملہ اب صرف وزیرستان تک محدود نہیں بلکہ بات آگے بڑھ چکی ہے۔

مقامی قبائلی جنگجوؤں نے بھی یہ دھمکی دی تھی کہ ان کی حکومت کے خلاف جنگ اب صرف وزیرستان تک محدود نہیں رہے گی۔ اس قسم کی دھمکی وانا میں جنگجوؤں کے امیر نیک محمد نے بھی اپنے آخری ایام میں دی تھی تاہم ان کی ہلاکت کے بعد معاملہ کچھ سمٹ گیا۔

نیک محمد
قبائلی جنگجو نیک محمد نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ پرتشدد کارروائیاں وزیرستان تک محدود نہیں رہیں گی۔

اب ایک مرتبہ پھر وزیرستان میں لگی آگ دوسرے علاقوں تک پھیل رہی ہے۔ حکومت کو پہلے دن سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ گتھی سلجھانے میں جو دقت پیش آ رہی تھی وہ اب بھی ہے۔

انتہا پسندی کی نئی لہر پھیلنے کی واحد بڑی وجہ حکومتی رٹ کی کمزوری ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت پسند عناصر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر حکومت کا کنٹرول ہوتا تو وانا کے ٹیکسی ڈرائیور بلال کے مبینہ قاتل کو سزا سرکاری ادارے دیتے نہ کہ مقامی طالبان۔ حکومت نے تو اس سارے معاملے میں چپ سادھ رکھی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

چند ہفتے قبل جب وانا میں مقامی قبائلیوں اور علماء نے قانونی اور انصاف کے تقاضے خود پورے کرنے کا اعلان کیا تو حکام نے اس کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے ان کا امن و امان رکھنے میں ہاتھ بٹے گا۔ اگر اس طرح کے اقدامات سے حکومت کی مدد ہوتی ہے تو پھر ایسا نظام دیگر علاقوں میں بھی کیوں نافذ نہیں کر دیا جاتا۔ہر شہر ہر قصبے میں علماء بھی موجود ہیں اور رضاکار بھی۔

لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قبائلی علاقوں سے جو کئی دھائیوں سے حکمراں لیبارٹری کا کام لیتے رہے ہیں حالیہ واقعات بظاہر اسی سلسلے کی ایک کڑی دیکھائی دیتے ہیں۔ مذاکرات اور لڑائی کے کئی دور ہوچکے ہیں اور اب تک نہ حکومت قبائلیوں کی اور نہ قبائلی حکومت کی بولی سمجھ پائے ہیں۔ بداعتمادی عروج پر تھی اور اب بھی ہے۔

بعض مبصرین کے خیال میں قبائلی علاقوں میں پائیدار امن ان علاقوں کو بھی ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے میں ہے۔ بات صرف سکول کھولنے یا سڑکیں بنانے تک محدود نہیں بلکہ حکومت کو اس سے بھی آگے بڑھ کر وہاں سیاسی عمل کی اجازت دینا جیسے بڑے قدم اٹھانے ہوں گے۔

کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق قومی سیاسی دھارے میں آنے سے ہی ان علاقوں میں انتہا پسندی کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ کسی حکومت کے لیئے قبائلی علاقوں میں تبدیلی لانا القاعدہ اور طالبان کے خلاف جاری جنگ سے کئی گنا آسان ہوگا اگر قبائلیوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد