وزیرستان میں جھڑپ، سولہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی حکام کا دعوی ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے سیکورٹی فورسز پر ایک تازہ حملے میں ایک فوجی ہلاک ہو گیا جس کے بعد جوابی کارروائی میں پندرہ سے بیس حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی رات تین بجے کے بعد صدر مقام میران شاہ سے تقریباً بارہ کلومیٹر مغرب میں افغان سرحد کے قریب دتہ خیل کے علاقے میں ہوا۔ نامعلوم مسلح افراد نے سیکورٹی فورسز کی توپ نرائی نامی چوکی پر ہلکے اور بھاری اسلحے سے حملہ کیا۔ اس حملے میں حکام کے مطابق نیم فوجی ملیشیا کا ایک سپاہی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی میں توپوں کا استعمال کیا۔ بعد میں مقامی ذرائع کے مطابق توپ بردار ہیلی کاپٹر بھی کام میں لائے گئے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی سے پندرہ سے بیس ’شرپسند‘ ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم ترجمان کو شک تھا کہ ان میں غیرملکی بھی شامل تھے۔ فوج نے بعد میں فرار ہونے والے حملہ آوروں سے رہ جانے والا اسلحہ بھی قبضے میں لیا ہے۔ اس میں خودکار ہتھیاروں کے علاوہ راکٹ بھی شامل تھے۔ لڑائی میں پانچ فوجی زخمی ہوئے۔ ان زخمیوں کو طبی امداد کے لیے بنوں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اس طرح کے ماضی قریب میں حملوں کی مقامی مزاحمت کار ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ تاہم اس تازہ حملے کے بارے میں کوئی دعوی سامنے نہیں آیا ہے۔ قبائلی مزاحمت کار حکومت سے علاقے میں القاعدہ اور طالبان کے نام پر جاری فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ کسی بھی غیرملکی کی موجودگی تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ | اسی بارے میں پاکستانیوں کی لاشیں دفنا دی گئیں23 March, 2006 | پاکستان ایف سی چوکیوں پر حملے، 4 زخمی21 March, 2006 | پاکستان ’میران شاہ: 120 شدت پسند ہلاک‘ 06 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: ہمارے نامہ نگار کی آپ بیتی06 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||