BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 March, 2006, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانیوں کی لاشیں دفنا دی گئیں

پاکستانی شہری
افغانستان میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کو چمن میں دفنا دیا گیا۔
افغانستان کے سرحدی علاقے سپن بولدک میں ہلاک ہونے والے چودہ پاکستانیوں کی لاشیں آج پاکستان لائی گئی ہیں جن میں نو چمن میں دفنا دی گئی ہیں جبکہ باقی کوئٹہ، کچلاک اور پشین لائی گئی ہیں۔

جب لاشیں چمن لائی گئیں تو نور زئی قبیلے کے لوگوں نے احتجاج کیا۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق نور زئی قبیلہ سے تھا۔

ان ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

گزشتہ روز جب یہ واقعہ پیش آیا تو افغانستان سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ہلاک ہونے والے طالبان سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں افغان فوجیوں نے ایک مقابلے کے بعد ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد کی تعداد سولہ بتائی گئی تھی۔

قندہار کے گورنر اسداللہ خالد نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے دراصل جرائم پیشہ افغانی تھے جو پاکستان میں رہا کرتے تھے۔

یہاں چمن کے ضلعی رابطہ افسر ثاقب عزیز نے بتایا ہے کہ یہ لوگ نور زئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور چند روز پہلے روایتی تہوار نوروز منانے کے لیے افغانستان کے علاقے مزار شریف گئے تھے۔ واپسی پر انہیں گرفتار کر کے ایک جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپن بولدک میں سرحدی امور کے ایک انچارج کی ان لوگوں کے ساتھ ذاتی دشمنی تھی اور انچارج کے ایک بھائی کو گزشتہ سال چمن میں نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کو ذاتی بدلہ لینے کے لیے ہلاک کیا گیا ہے اور پاکستان پر الزام عائد کرکے اس سے تین مقاصد حاصل کیے گئے ہیں۔ ایک تو ذاتی دشمنی کا بدلہ لیا، دوسرا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو طالبان کی حمایت کے حوالے سے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور تیسرا یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بلوچستان حکومت کے وزیر صحت اور چمن میں نور زئی قبیلے کے ایک رہنما حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ یہ کوئی ذاتی دشمنی کا معاملہ نہیں تھا بلکہ صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے سب کچھ کیا گیا ہے۔

انہوں نے افغان حکومت کے رکن محمد عارف کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا ہے کہ یہ لوگ طالبان نہیں تھے۔

گزشتہ روز اس حوالے سے سپن بولدک میں سرحدی امور کے انچارج کمانڈر رازق سے بار بار رابطے کی کوشش کی لیکن رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔

افغانستان میں حکام یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پاکستان طالبان کی حمایت کر رہا ہے اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں یہ طالبان افغان حکومت کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد