BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 March, 2006, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ: فوجی قلعے پر راکٹ حملہ

میران شاہ
اس ماہ کے اوائل میں پاکستانی فوج نے بڑا آپریشن شروع کیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات نامعلوم افراد نے شہر میں فوجی قلعہ پر راکٹوں سے حملہ کیا تاہم اس حملے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

میران شاہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آٹھ کے قریب راکٹ داغے گئے۔ ان میں سے دو گرڈ سٹیشن، دو سٹیڈیم اور باقی قلعے کے اردگرد کھلے علاقوں میں گرے۔

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی جو دو گھنٹوں تک جاری رہی۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب میران شاہ میں حالات معمول کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق سنیچر کوشہر میں سکول اور دفاتر میں کئی ہفتوں کے تعطل کے بعد کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

ادھر جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقع ٹانک شہر سے اطلاعات ملی ہیں کہ پولیس نے سرکاری اہلکاروں اور دفاتر کو اپنے حفاظتی اقدامات سخت کرنے کے احکامات جاری کئیے ہیں۔

حکام کو شک ہے کہ شدت پسند کسی سرکاری اہلکار کے اغواء یا ان پر حملے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔

میران شاہ میں فوجی آپریشن کے دوران

ادھر مقامی مزاحمت کاروں کے ایک ترجمان نے گزشتہ دنوں بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے مولوی صادق نور کی جانب سے میران شاہ کے علاقے میں جنگ بندی کے اعلان کی تردید کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بیان دیتے ہوئے مقامی مزاحمت کاروں کے ایک ترجمان طارق جمیل نے سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران واقعات پر مزاحمت کاروں نے اپنا موقف ذرائع ابلاغ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت کو مطلوب قبائلی مولوی صادق نور نے میران شاہ کے پچیس کلومیٹر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کرنے کا کوئی اعلان کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مولوی صادق نور زندہ ہیں۔

ترجمان کے مطابق قبائلیوں کی زندگیوں کے تحفظ تک ان کی جنگ جاری رہے گی۔

انہوں نے اُس حکومتی دعویۙ کی تردید کی جن میں ان کے بھارت یا شمالی اتحاد کے ساتھ روابط ہونے یا ان میں غیرملکیوں کے موجود ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

طارق جمیل نے شمالی وزیرستان میں گزشتہ دنوں کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات جاری تھے کہ حکومت نے سرحدی گاؤں سیدگئی میں اچانک کارروائی کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے کہنے پر یہ مذاکرات خفیہ رکھے جا رہے تھے کیونکہ ان کے بقول حکومت کا کہنا تھا کہ ان پر امریکہ کا دباؤ ہے۔

 مزاحمت کرنے والوں کے ترجمان کے مطابق قبائلیوں کی زندگیوں کے تحفظ تک ان کی جنگ جاری رہے گی

طارق جمیل کا موقف تھا کہ اس کارروائی یا بعد والی کارروائیوں میں کوئی غیرملکی نہیں بلکہ مقامی لوگ مارے گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق اس واقعہ پر مقامی قبائلی مشتعل ہوئے اور انہوں نے بغاوت کی۔

مقامی مزاحمت کاروں کے ترجمان نے حکومت سے ذرائع ابلاغ اور سیاسی جماعتوں کو علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ بقول ان کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔

انہوں نے پاکستانی عوام پر بھی حکومت پر وزیرستان سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کے لیئے دباؤ ڈالنے کی اپیل کی۔

طارق کا کہنا تھا کہ یہ مزاحمت مقامی طالبان ہی نہیں بلکہ دیگر تمام لوگ بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خون اتنا سستا نہیں کہ کسی ’کافر‘ صدر کے دورے پر اس کا تحفہ دیا جاسکے۔

اس ماہ کے اوائل میں پاکستانی فوج نےاس علاقے میں بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ تین دن تک فوج اور مزاحمت کاروں میں جاری رہنے والی جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو بیس مزاحمت کاروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

میران شاہ، رابطہ ختم
میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا
 میران شاہ میں پاک فوجلڑائی کیوں اور کیسے؟
میران شاہ میں جھگڑا کس بات کا ہے؟
میران شاہ میں تباہ شدہ دکانزندگی، تجارت متاثر
میران شاہ میں زندگی اور تجارت دونوں متاثر ہیں
لڑکیکھانےپینےکا مسئلہ
میران شاہ میں اشیائے خورد نوش کی قلت
میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد