میران شاہ: مدرسہ بم سے اڑا دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان کے مقام میران شاہ کے قریب واقع ایک مدرسہ کو سکیورٹی فورسز نے منہدم کر دیا ہے۔ منہدم کیے جانے والے اس نجی مدرسے کا نام خلیفہ اسلامی مدرسہ تھا اور اس سے حکام کو مطلوب طالبان رہنما جلال الدین حقانی کا بھی تعلق بتایا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق فوجی اہلکاروں نے پہلے مدرسے کی عمارت سے تمام کتابیں نکال لیں اور پھر اس کے اندر دھماکہ خیز مواد رکھ کر اس میں دھماکہ کر دیا۔ دھماکے کے وقت عمارت خالی تھی۔ یہ مدرسہ اکتوبر سے بند ہے اور اس میں زیادہ تر افغان طالب علم پڑھتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مدرسے کو منہدم کرنے کی کارروائی میں مقامی قبائیلیوں نے بھی سکیورٹی فورسز کی مدد کی۔ اس مہینے کے اوائل سے پاکستانی فوج نے اس علاقے میں بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ تین دن تک فوج اور مزاحمت کاروں میں جاری رہنے والی جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو بیس مزاحمت کاروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ مقامی لوگ یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور صحافیوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ کئی روز سے فوج افغان پناہ گزینوں اور باقی غیر ملکیوں کو کہہ رہی ہے کہ وہ فورا ً اس علاقے سے نکل جائیں۔ |
اسی بارے میں ’فوج نے ہسپتال دھماکے سےاڑایا‘14 March, 2006 | پاکستان ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟08 March, 2006 | پاکستان ہلاک شدگان دفن، آبادی کی نقل مکانی11 March, 2006 | پاکستان ’پناہ گزین میران شاہ چھوڑ دیں‘ 13 March, 2006 | پاکستان غیر ملکیوں کا انخلاء شروع14 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||