BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 March, 2006, 09:00 GMT 14:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ: مدرسہ بم سے اڑا دیا گیا
تباہ عمارت
میران شاہ میں کئی دن تک فوج اور مزاحمت کاروں میں جھڑپیں جاری رہیں
شمالی وزیرستان کے مقام میران شاہ کے قریب واقع ایک مدرسہ کو سکیورٹی فورسز نے منہدم کر دیا ہے۔

منہدم کیے جانے والے اس نجی مدرسے کا نام خلیفہ اسلامی مدرسہ تھا اور اس سے حکام کو مطلوب طالبان رہنما جلال الدین حقانی کا بھی تعلق بتایا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق فوجی اہلکاروں نے پہلے مدرسے کی عمارت سے تمام کتابیں نکال لیں اور پھر اس کے اندر دھماکہ خیز مواد رکھ کر اس میں دھماکہ کر دیا۔

دھماکے کے وقت عمارت خالی تھی۔ یہ مدرسہ اکتوبر سے بند ہے اور اس میں زیادہ تر افغان طالب علم پڑھتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مدرسے کو منہدم کرنے کی کارروائی میں مقامی قبائیلیوں نے بھی سکیورٹی فورسز کی مدد کی۔

اس مہینے کے اوائل سے پاکستانی فوج نے اس علاقے میں بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔ تین دن تک فوج اور مزاحمت کاروں میں جاری رہنے والی جھڑپوں میں کم سے کم ایک سو بیس مزاحمت کاروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

مقامی لوگ یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور صحافیوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔

کئی روز سے فوج افغان پناہ گزینوں اور باقی غیر ملکیوں کو کہہ رہی ہے کہ وہ فورا ً اس علاقے سے نکل جائیں۔

میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
اسی بارے میں
غیر ملکیوں کا انخلاء شروع
14 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد