BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک شدگان دفن، آبادی کی نقل مکانی

میران شاہ
تازہ کارروائی کے بعد اس علاقے سے بھی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمعہ کی رات ایک مدرسے پر حملے میں ہلاک ہونے والے گیارہ مقامی افراد کو آج مختلف قریبی دیہات میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ متاثرہ گاؤں سے بھی لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے کل رات میران شاہ کے قریب خٹی کلے میں یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی تھی۔ اس آپریشن کا ہدف حکومت کو القاعدہ اور طالبان کی مبینہ مدد کے الزام میں مطلوب مولوی صادق نور کا مدرسہ تھا۔

فوجی حکام نے اس حملے میں پچیس سے تیس افراد کی ہلاکت کا دعٰوی کیا ہے تاہم مقامی ذرائع نے صرف گیارہ مقامی طالبان کی ہلاکت کی فی الحال تصدیق ہوسکی ہے۔ ان افراد کی لاشیں مدرسے کی تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے ملی ہیں۔

حکام کے مطابق لاشیں کافی مسخ شدہ تھیں۔ مرنے والوں میں ایک شخص پنجاب کا بھی بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس حملے میں کسی غیرملکی کی ہلاکت کے سرکاری دعوے کی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیال ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی میں حکومت کو مطلوب مولوی صادق نور اور مولوی عبدالخالق محفوظ رہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ افراد حملے سے کچھ دیر قبل وہاں سے چلے گئے تھے۔

میران شاہ میں ہونے والی تباہی

علاقے سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق خٹی اور رغزئی کلے اور قریبی دیہات سے لوگ بڑی تعداد میں میر علی اور دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ میران شاہ کے ایک رہائشی کے مطابق ان افراد کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔

اس کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جمعے کی رات نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی کئی چوکیوں پر حملے کئے جن میں ایک فوجی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس تازہ کارروائی کے بعد علاقے میں قبائلیوں میں غم و غصے کی بھی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ قبائلیوں کا کہنا ہے کہ انہیں توقعہ تھی کہ میران شاہ میں لڑائی کے بعد قدرے امن ممکن ہوسکے گا لیکن اس تازہ کارروائی نے انہیں مزید خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔

میران شاہ کے ایک شہری عبدالوحد کا کہنا تھا: ’ہم سمجھ رہے تھے کہ میران شاہ کے واقعات کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے لیکن دوبارہ حملے باعث تشویش ہیں۔ ادھر میران شاہ میں آج صبح گیارہ سے پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی جبکہ دتہ خیل کے علاقے میں بجلی بھی بحال کر دی گئی ہے۔

میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
مزاحمت کا بدلتا رخ
طالبان مزاحمت کی زمین تبدیل ہو رہی ہے
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد