BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 19:20 GMT 00:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان مزاحمت کی بدلتی زمین

 طالبان
سنہ 2005 میں طالبان نے سو کے قریب حکومت کے حامی قبائلی معززین کو ہلاک کیا۔
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں سکیورٹی افواج اور قبائلی شدت پسندوں کے درمیان ماچ کے پہلے ہفتے میں ہونے والی جھڑپوں میں دونوں اطراف کے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پانچ مارچ کو پاکستان کی سکیورٹی افواج اور شدت پسندوں کے درمیان وزیرستان میں اب تک کی سب سے شدید جھڑپ اس وقت ہوئی جب ان قبائلی شدت پسندوں نے ٹیلیفون ایکسچینج سمیت اہم سرکاری عمارات پر قبضہ کر لیا۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے پانچ مارچ کو کہا کہ شدت پسندوں کو علاقے سے باہر نکال دیا گیا ہے اور حالات سکیورٹی افواج کے قابو میں ہیں۔ اس بیان سے مقامی آبادی نے شدید اختلاف کیا اور آزاد ذرائع کے مطابق حالات شدید کشیدہ ہیں۔ یہ ذرائع کہتے ہیں کہ تین برس قبل پاک فوج کے علاقے میں آنے کے بعد یہ اب تک کے خراب ترین حالات ہیں۔

افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع پاکستان کے قبائلی علاقے کو سات ایجنسیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہاڑی علاقے پر مشتمل ان ایجنسیوں کے نام مہمند، خیبر، کرم،اورکزئی، باجوڑ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ہیں۔ اس علاقے میں ستّر لاکھ کے قریب لوگ آباد ہیں اور اپنے قدامت پسند نظریات اور خودمختاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اب یہ شدت پسندی قبائلی علاقوں سے دیگر علاقوں میں منتقل ہو رہی ہے اور اب ’ٹانک‘ کا علاقہ بھی طالبان کے زیرِاثر آ گیا ہے اور اب اس علاقے میں ایک بھی آڈیو کیسٹ یا فلموں کی دکان اور انٹرنیٹ کیفے نہیں بچا۔ سب کچھ طالبان نے صاف کر دیا ہے۔
الیاس خان

صوبۂ سرحد کے سابق چیف سیکرٹری اور ستّر کی دہائی میں اس قبائلی علاقے میں امن قائم کرنے والے خالد عزیز کا کہنا ہے کہ’اس علاقے کا انتظام انعامات یا دھمکیوں کے ذریعے تو چلتا ہے لیکن مکمل تشدد کے ذریعے نہیں اور اب اس صدیوں سے جاری سیاسی نظام کا شیرازہ بکھر گیا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ اس تباہی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پولیٹکل ایجنٹ کے پاس اب وہ اختیارات نہیں جو ماضی میں ہوتے تھے۔ حالات کی خرابی کی وجہ جہاں عالمی حالات ہیں وہیں پاکستان کی جانب سے حالات سے صحیح طریقے سے نہ نمٹنا بھی ہے‘۔

پاکستان کا یہ قبائلی علاقہ روس افغان جنگ کے دوران افغان اور عرب مجاہدین کی پناہ گاہ رہا ہے۔ 1989 میں افغانستان سے روسی انخلاء کے وقت تک ان مجاہدین اور مقامی آبادی کا تعلق انتہائی مضبوط ہو چکا تھا۔ بہت سے افغان، عرب اور وسط ایشیائی مجاہدین نے مقامی آبادی میں شادیاں کر لی تھیں جس سے یہ تعلق ذاتی نوعیت بھی اختیار کر گیا۔

یہ لوگ اپنے قدامت پسند نظریات اور خودمختاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

پاکستان نے سنہ 2003 میں اپنی افواج کو علاقے میں طالبان کا اثر کم کرنے کے لیے ان قبائلی علاقوں میں بھیجا اور مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی افواج غیر ملکی شدت پسندوں کی آمد روکنے میں کافی حد تک کامیاب رہیں۔

پاکستانی صحافی الیاس خان کہتے ہیں کہ ’ اس عمل کے دوران پاکستان کی توجہ زیادہ تر غیر ملکی شدت پسندوں پر رہی۔ انتظامیہ کو ہدایات تھیں کہ وہ مقامی آبادی اور طالبان کو نہ چھیڑے جس سے انہیں اپنا اثرونفوذ قائم کرنے میں مدد ملی‘۔

مبصرین کے مطابق مقامی آبادی کو راضی رکھنے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ انتظامی کنٹرول دیا گیا اور اس کے جواب میں حکومت نے ان سے اس بات کی ضمانت لی کہ وہ غیر ملکیوں کو پناہ نہیں دیں گے۔

اس غیر اعلانیہ معاہدے کا فائدہ مقامی طالبان کو ہوا اور انہوں نے اپنی من مانی شروع کر دی۔ بظاہر غیر ملکی شدت پسندوں کو طالبان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد پر سیخ پا ہو کر پاکستان کی سکیورٹی افواج نے اپنی پالیسی اچانک تبدیل کر دی اورغیر ملکیوں کو پناہ دینے والے تمام افراد کے خلاف بلا تفریق طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔

صحافی الیاس حان کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طالبان ان مقامی جرگوں کے خلاف ہو گئے جو قیامِ امن کے لیئے سکیورٹی افواج کی مدد کر رہے تھے۔ بی بی سی کے نمائندے دلاور خان وزیر کے مطابق سنہ 2005 میں طالبان نے سو کے قریب حکومت کے حامی قبائلی معززین کو ہلاک کیا۔

 افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع پاکستان کے قبائلی علاقے کو سات ایجنسیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہاڑی علاقے پر مشتمل ان ایجنسیوں کے نام مہمند، حیبر، کرم،اورکزئی، باجوڑ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ہیں۔ اس علاقے میں ستّر لاکھ کے قریب لوگ آباد ہیں اور اپنے قدامت پسند نظریات اور خودمختاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

الیاس خان کا کہنا ہے کہا کہ اس وقت حال یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں تو کوئی جرگہ ہی نہیں جو ایک انوکھی اور ناقابلِ یقین سی بات ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ اب یہ شدت پسندی قبائلی علاقوں سے دیگر علاقوں میں منتقل ہو رہی ہے اور اب ’ٹانک‘ کا علاقہ بھی طالبان کے زیرِاثر آ گیا ہے اور اب اس علاقے میں ایک بھی آڈیو کیسٹ یا فلموں کی دکان اور انٹرنیٹ کیفے نہیں بچا۔ سب کچھ طالبان نے صاف کر دیا ہے‘۔

سابق چیف سیکرٹری( سرحد) خالد عزیز کا کہنا ہے اب بھی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی انتظامیہ کو مضبوط کیا جائے اور سیاسی نظام دوبارہ لایا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد