پاک فوج کے لیے قبائلی دلدل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش کے دورے کے دوران مجموعی طور پر شمالی وزیرستان میں تقریباً چھیانوے افراد ہلاک ہو ئے ہیں اور یہ ہلاکتیں دہشت گردی کےخلاف عالمی جنگ کا حصہ تھیں۔ جب امریکی صدر جاج ڈبلیو بش جنوبی ایشیاء کے دورے کے موقع پر غیر اعلانیہ طور پر اچانک افغانستان پہنچے تو افغان سرحد کے اس پار پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ڈانڈہ سیدگئی میں سکیورٹی فورسز نےایک آپریشن میں تقریباً پینتالیس مبینہ شدت پسند ہلاک کردیۓ۔ پھرجب امریکی صدر بھارت کے بعد پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپسی کے لیۓ رخت سفر باندھ رہے تھےتو شمالی وزیرستان کے مرکز میرانشاہ میں حکومتی فورسز اور مبینہ مقامی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں حکومت کے مطابق پانچ اہلکاروں کے علاوہ چھیالیس مبینہ جنگجو ہلاک ہوگۓ۔ ایوان صدر میں ایک گھنٹہ کی ون ٹو ون ملاقات کے بعد جب جنرل پرویز مشرف اور صدر بش صحافیوں کے سامنے جلوہ افروز ہوۓ تو دونوں رہنماوں کے لہجوں میں وہ گرمجوشی تمازت نہیں تھی جو بھارت کے دورے کے موقع پر وزیراعظم من موھن سنگھ اور صدر بش کے لہجوں میں تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ لڑتے ہوئے صدربش، عراق اور جنرل مشرف قبائلی علاقوں کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ پاکستان کے اسی ہزار فوجی قبائلی علاقوں میں حکومت کے مطابق چند سو غیرملکی اور مقامی شدت پسندوں کیخلاف جنگ میں مصروف ہیں لیکن گزشتہ تین سال سے مبینہ شدت پسندوں کا زور ٹوٹنے کے بجاۓ مزید بڑھ رہا ہے اور مبینہ جنگجوؤں کو علاقے کے نوجوانوں کی حمایت حاصل ہورہی ہے۔ تین سال قبل پہلے فوجی آپریشن کے دوران مبینہ شدت پسندوں کو جنوبی اور شمالی وزیرستان کی ایک انچ زمین پر حق حکمرانی حاصل نہیں تھی لیکن آج جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مبینہ مقامی طا لبان کمانڈروں کی حکمرانی ہے جو وہاں افغانستان طالبان طرز کی شرعی سزائیں دے رہے ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت چند ماہ قبل مبینہ مقامی طالبان کا شمالی وزیرستان میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن تھا جس میں بیس کے قریب مبینہ جرائم پیشہ افراد کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ بعض کے سرقلم کرکے لاشیں سرعام لٹکادی گئیں۔اس دوران فوج اور مقامی انتظامیہ دونوں بے بسی سے تماشہ دیکھ رہے تھے۔
قبائلی علاقے میں داخل ہونے کے بعدابتداء میں فوج نے بیک وقت طاقت اور مذاکرات کی دوہری حکمت عملی اپنائی اور مقامی ملکان کے ذریعے مبینہ شدت پسندوں کیساتھ مذاکرت کرتی رہی۔ اس حکمت عملی نے وقتی طور پر مثبت نتائج تو دیئے لیکن طویل مدت میں اسکے خطرناک نتائج اس وقت سامنے آئے جب جنوبی وزیرستان میں حکومت اور مبینہ جنگجووں کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔ ایک ایک کرکےزیادہ تر حکومت یافتہ ملکان کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کردیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ ایک سال میں جنوبی وزیرستان میں اسی سے زیادہ حکومت یافتہ ملکان قتل ہوۓ ہیں جنکی نہ کسی نے ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی حکومت کسی کو ذمہ دار ٹھراسکی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت اور مبینہ جنگجووں کے درمیان مذاکرات کے لۓ کوئی ثالث سامنے آنے سے ڈررہا ہےاسطرح دونوں فریقوں کے درمیان ایک خلاءسا پیدا ہوگیا ہے۔ باجوڑ میں امریکی بمباری کے بعد جب مقامی انتظامیہ نے دو مرتبہ جرگہ بلانے کی کوشش کی تو ملکان نے خوف کیوجہ سے شرکت کرنے سے انکار کردیا۔دوسری طرف فوج نے قبائلی علاقوں کا مکمل انتظامی اور فوجی کنٹرول سنھبال لیا ہے جسکی وجہ سے پولٹیکل انتظامیہ بے دست و پاء ہے۔ فوج کے آنے سے قبل پولٹیکل انتظامیہ مقامی ملکان کیساتھ ملکر قبائلی علاقے کا انتظام و انصرام علاقے کی مروجہ رسم ورواج کو سامنے رکھتے ہوئے بڑی حکمت اور کامیابی کیساتھ چلاتی رہی اور جب تک پولٹیکل انتظامیہ کی مدد سے جرگے ہورہے تھے اس وقت تک فوج اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان مفاہمت کی طرف کچھ حد تک پیش رفت ہورہی تھی۔ جب تک حکومت قبائلی علاقے میں اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور نہیں کرے گی اور دوبارہ سے پولٹیکل انتظامیہ ،منتخب نمائندوں اور قبائلی ملکان کو فعال رول ادا کرنے کا موقع نہیں دے گی تب تک جنرل پرویز مشرف کی فوج قبائلی علاقوں کی دلدل میں دھنستی چلی جاۓ گی۔ | اسی بارے میں میران شاہ میں کشیدگی جاری، 20 ہلاک 06 March, 2006 | پاکستان بی بی سی کے نامہ نگار کی حراست06 March, 2006 | پاکستان ’درجنوں ہلاک، ہزاروں کی نقل مکانی‘ 04 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں جھڑپیں جاری03 March, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی میں 45 ہلاک01 March, 2006 | پاکستان ’بش کے دورے سےکوئی تعلق نہیں‘01 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||