بی بی سی کے نامہ نگار کی حراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کو علاقے سے نکال دیا ہے۔ علاقے سے نکل جانے کا حکم دینے سے قبل فوجی حکام نے انہیں چند گھنٹوں کے لیئے حراست میں بھی رکھا۔ دو دیگر صحافیوں کو بھی، جوکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے منسلک ہیں، قبائلی ایجنسی میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ اس علاقے میں گزشتہ تین دن سے سکیورٹی افواج اور قبائلیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں جن کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ بی بی سی اردو سروس پشاور کے نامہ نگار ہارون رشید کو پیر کی صبح ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ہارون رشید اس چیک پوسٹ سے گزر کر میران شاہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ میران شاہ میں گزشتہ چند دن سے قبائلیوں اور فوج کے درمیان علاقے کا سب سے زیادہ خونی تصادم جاری ہے۔ حکام نے ہارون کی حراست کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ بظاہر، اعلٰی حکام کی مداخلت پر ہارون رشید کو چھوڑ دیا گیا تاہم انہیں فوری طور پر علاقے سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ گزشتہ کئی ماہ سے جنوبی اور شمالی وزیرستان کے تمام علاقوں میں صحافیوں کا داخلہ ممکن نہیں ہے، خصوصاً ان صحافیوں کا جو غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے منسلک ہیں۔ | اسی بارے میں میران شاہ میں کشیدگی جاری، 20 ہلاک 06 March, 2006 | پاکستان ’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘06 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: لڑائی کیوں اور کیسے؟05 March, 2006 | پاکستان میران شاہ:’طاقت سے حل نہیں نکلے گا‘05 March, 2006 | پاکستان میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا05 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||