’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میران شاہ میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد اتوار کو سینکڑوں کی تعداد میں مقامی افراد نے کپڑوں اور دیگر سامان سمیت علاقے سے بھاگنا شروع کر دیا ہے۔ دریں اثناء میران شاہ سے رکن قومی اسمبلی نیک زمان نے گورنر سرحد سے ملاقات کی ہے اور جرگہ بلانے کی تجویز پیش کی۔ ان کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے جو سرحد حکومت کا حصہ ہے۔
نیک زمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ مسئلہ ’صرف جرگے کے ذریعے حل ہوگا اور بندوق سے نہیں ہوگا‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے ’حل میں رکاوٹ حکومت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسے سنجیدگی سے جرگے کے ذریعے حل کرتی تو یہ اتنا سنگین نہ ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پانی، بجلی اور سڑکیں بند ہیں جس سے خواتین اور بچوں کو تکلیف کا سامناہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید نے پیر کی صبح بتایا کہ علاقے سے جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن وہ سنیچر کی رات کی طرح شدید نہیں تھیں۔
میران شاہ سے آنے والے ایک شخص نے پیر کو بتایا کہ لڑائی میں گاؤں کے لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میران شاہ سے گاڑی نہیں آنے دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ پچیس تیس ہزار لوگ پیدل سفر کر کے علاقے سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقے سے آنے والے لوگوں نے انہیں راستے میں بتایا بازاروں میں لاشیں پڑی ہیں اور بہت نقصان ہوا ہے۔ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے والے دیہاتی جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، پیدل ہی اس علاقے کو چھوڑ رہے ہیں جہاں ہفتے کو شروع ہونے والی بدترین لڑائی میں پینتالیس شدت پسند اور پانچ سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اتوار کو علاقہ چھوڑنے والوں نے ہاتھوں میں سوٹ کیس اور کپڑوں کی گٹھریاں اٹھائی ہوئی تھیں اور وہ پیدل چل رہے تھے کیونکہ علاقے میں ٹرانسپورٹ کو آنے جانے کی اجازت نہیں۔ پچیس سالہ نور نواز نے جو علاقے میں گاڑیوں کے پرزوں کا کاروبار کرتے ہیں، اے پی کو بتایا کہ ان کا پورا خاندان ہفتے کی رات سو نہیں سکا کیونکہ علاقے میں شدید لڑائی جاری تھی۔
ہفتے کو ہونے والی جھڑپیں فوج کی طرف سے کچھ دن قبل افغان سرحد کے قریب القاعدہ تنظیم کے ایک مشتبہ اڈے پر کارروائی کے بعد شروع ہوئیں۔ گزشتہ روز سے اب تک ان جھڑپوں میں فوجی ذرائع کے مطابق پینتالیس افراد مارے جا چکے ہیں جن میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔ تاہم شدت پسندوں کے طرف دار قبائلیوں کا دعویٰ ہے کہ جھڑپوں میں مقامی لوگ مارے گئے ہیں اور فوجی کارروائی سے حکومت کے خلاف اشتعال اور بڑھ گیا ہے جس سے علاقے کی صورتِ حال مزید نازک ہوگئی ہے۔
پاکستان نے افغان سرحد پر اسی ہزار کے قریب فوج تعینات کر رکھی ہے لیکن ان قبائلی علاقوں میں حکومت کا کنٹرول قائم نہیں ہو سکا کیونکہ یہاں کے لوگوں نے صدیوں سے بیرونی مداخلت کا مقابلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا05 March, 2006 | پاکستان ’درجنوں ہلاک، ہزاروں کی نقل مکانی‘ 04 March, 2006 | پاکستان میران شاہ جھڑپیں، تئیس ہلاک04 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: کشیدگی کے بعد جھڑپیں04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||