BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 18:31 GMT 23:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ جھڑپیں، تئیس ہلاک

میران شاہ
زخمی ہونے والوں کو طبی امداد دی جارہی ہے
پاکستان میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں دو فوجیوں سمیت تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق رات گئے جھڑپیں رک گئی ہیں۔

پشاور میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مقام میران شاہ، میر علی اور زرمیلہ کے علاقوں میں ہفتے کی سہ پہر شروع ہونے والی جھڑپیں اب رات گئے ختم ہوگئی ہیں۔ تاہم اس سے قبل سکیورٹی فورسز اور مسلح شدت پسندوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو فوجی اہلکار سمیت تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق مشتبہ شدت پسندوں نے آج دوبارہ میران شاہ میں سرکاری اہداف اور میر علی میں ہیڈکواٹر پر حملہ کیا تھا۔ اس دوران فریقین نے ہلکے اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا۔

ادھر رات گئے تک میران شاہ سے ٹیلیفون کا رابطہ بحال نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے تازہ صورتحال جاننے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ ٹیلیفون کا مسئلہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے۔ پہلے صرف نجی نمبر خراب ہوجاتے تھے لیکن اب سرکاری نمبر بھی کام نہیں کر رہے۔

ٹیلیفون کے منقطع ہونے سے آزاد ذرائع سے سرکاری بیان کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے حکومت سے میران شاہ قلعہ خالی کرنے اور فوج کو شہر کے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ حکومت نے شدت پسندوں کو شہر سے چلے جانے کے لیئے کہا تھا۔

ہفتے کو دن بھر کشیدگی اور خوف کی فضا کی وجہ سے بازار اور تعلیمی ادارے پہلے سے ہی بند تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی بھی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کو دوسرے روز بھی حکومت اور مقامی قبائلیوں کے درمیان کشیدگی کی کمی کے لئے مذاکرات نہیں ہوسکے۔ اس کی وجہ میران شاہ کے ایک مدرسے دارلعلوم گلشن کے مہتمم مولوی عبدالخالق کی جانب سے جمعہ کے روز لگائی جانے والی قبائلی ملکوں پر پابندی ہے۔

مولوی عبدالخالق نے پشاور سے شائع ہونے والے تین اردو کے اخبارات کی شمالی وزیرستان میں فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ اس اقدام کی وجہ ان اخبارات میں وہ سرکاری بیان تھا جس میں مولانا عبدالخالق کو جمعرات کے روز سرکاری دفاتر پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور ان کی عوام میں مقبولیت ختم ہونے کا دعوٰی کیا گیا تھا۔

اس وجہ سے میران شاہ کے صحافیوں نے رپورٹنگ بھی بند کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں
میران شاہ میں جھڑپیں جاری
03 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد