BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزیرستان، فوجی کارروائیاں معطل‘

قبائلیوں نے فوجی آپریشن کو ختم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے
گورنر سرحد خلیل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

قبائلیوں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

وفاقی حکومت کے قبائلی علاقوں کے لیئے ایجنٹ گورنر سرحد خلیل الرحمان نے یہ اعلان جمعرات کو شمالی وزیرستان کے ایک روزہ دورے میں کیا۔

میران شاہ میں قبائلی سرداروں کے ایک جرگے سے خطاب میں گورنر نے کہا کہ فوجی آپریشن معطل کرنے کی وجہ حکومت کا یہ یقین ہے کہ قبائلی مقامی روایات اور رسم و رواج کو بروئے کار لاتے ہوئے امن وامان برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو وہ آپریشن دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے جوکہ بقول ان کے ماضی سے زیادہ سخت اور نتیجہ خیز ہوگا۔

گورنر نے قبائلیوں پر زور دیا کہ وہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مزید کارروائیوں سے بچنے کی خاطر اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

غیرملکی شدت پسندوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ان سے نہیں نمٹیں گے تو دوسرے ممالک ان کے پیچھے آنے کو تیار ہیں۔

جب شمالی وزیرستان کے قبائلی سردار خان عمر جان سے پوچھا گیا کہ فوجی کارروائیوں کی بندش سے کہیں حالات مزید خراب تو نہیں ہونگے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور قبائلی اب مل کر امن کے لئے کام کرنے کو تیار ہیں۔

’ہم جنوبی وزیرستان والے حالات یہاں پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں گزشتہ دس روز سے حالات پرامن ہیں۔‘

ادھر شمالی وزیرستان کے گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے لاپتہ صحافی حیات اللہ کی بازیابی کے لئے میران شاہ کے صحافیوں کے ایک وفد نے حاجی پزیر کی سربراہی میں سیکٹری فاٹا ارباب شہزاد سے ملاقات کی ہے۔

جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے ٹانک میں ایک ملاقات کے دوران مقامی قبائل پر نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور کے تین اہلکاروں کی بازیابی کے لئے زور دیا ہے۔ یہ فوجی اتوار کے روز تیارزہ کے علاقے میں اغوا ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
’آپ چھوڑیں ہم نمٹیں گے‘
11 January, 2004 | پاکستان
وزیرستان میں مزید ہلاکتیں
07 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد