| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’آپ چھوڑیں ہم نمٹیں گے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں قبائلیوں نے علاقے میں مبینہ طور پناہ لئے ہوئے القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے غیرملکیوں کی تلاش میں حکومت کی مدد کے لئے لشکر تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ متفقہ فیصلہ ایجنسی کے صدر مقام وانا میں رستم بازار کے مقام پر اتوار کے روز باہمی مشورے کے لئے طلب کئے گئے قبائلیوں کے ایک بڑے جرگے نے کیا۔ اس نیم خودمختار علاقے میں بسنے والے احمد زئی وزیر قبائل کے سرداروں نے بڑی تعداد میں اس جرگے میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں اس ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک اور ان کے پیش رو مولانا نور محمد نے بھی شرکت کی۔ یہ جرگہ حکومت کے اس مطالبے کے بعد منعقد ہوا ہے جس میں اس نے احمدزئی وزیر قبائل سے ان تین افراد نیک محمد، حاجی شریف اور مولوی عباس کو جن پر غیرملکی عسکریت پسندوں کو مبینہ طور پر پناہ دینے کا الزام ہے حوالے کرنے کے لئے کہا تھا۔ قبائلیوں نے اس سلسلے میں اپنا لائحہ عمل تیار کرنے اور باہمی مشورے کے لئے حکومت سے دو روز کا وقت مانگا تھا۔ یہ جرگہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ وزیرستان میں بسنے والے احمدزئی وزیر قبائل نو قبیلوں کا مجموعہ ہے جس میں زلی خیل پر حکومت کا سخت دباؤ ہے کیونکہ خیال ہے کہ جمعرات کے روز داغے جانے والے راکٹ اسی قبیلے کے علاقےسے آئے تھے۔ دوسرا حکومت کو مطلوب ان تین قبائلیوں کا تعلق بھی زلی خیل قبیلے سے ہے۔ باقی آٹھ قبائل نے زلی خیل پر مطلوبہ افراد حکومت کے حوالے کرنے کے لئے زور دیا۔ البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تین افراد اپنے قبیلے سے بھی باغی ہیں اور ان کا کہا نہیں مان رہے۔ تقریبا تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس جرگے نے حکومت کو غیرملکی عناصر کی گرفتاری کے سلسلے میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ یہ قبائلی اب سوموار کے روز مقامی انتظامیہ کے ساتھ وانا میں ایک مرتبہ پھر ملاقات کریں گے اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||