BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میران شاہ: کشیدگی کے بعد جھڑپیں

شمالی وزیرستان
شمالی وزیرستان میں اخبارات کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی گئی
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں ہفتے کے روز دن بھر کی کشیدگی کے بعد سہ پہر سے سکیورٹی دستوں اور مقامی شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ تاہم ابھی نقصانات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

شمالی وزیرستان سے موصول تازہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی دستوں اور مقامی قبائلی شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں صدر مقام میران شاہ اور اس کے گردونواح میں شروع ہوئی ہیں۔ شدت پسند راکٹوں سے حملے کر رہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز توپ خانے کا استعمال کر رہی ہیں۔ تازہ نقصانات کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ادھر ہفتے کی شام سے میران شاہ سے ٹیلیفون کا رابطہ بھی منقطع ہے جس وجہ سے صورتحال جاننے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ ٹیلیفون کا مسئلہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے۔ پہلے صرف نجی نمبر خراب ہو رہے تھے لیکن اب سرکاری نمبر بھی کام نہیں کر رہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق شدت پسند نے حکومت سے میران شاہ قلعہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلے میں دھمکیاں بھی دی تھیں۔

علاقے میں کشیدگی اور خوف کی فضا کی وجہ سے بازار اور تعلیمی ادارے پہلے ہی بند تھے۔ ذرائع کے مطابق آج دوسرے روز بھی حکومت اور مقامی قبائلیوں کے درمیان کشیدگی کی کمی کے لیئے مذاکرات نہیں ہوسکے۔

اس خوف اور کشیدگی کی وجہ میران شاہ کے ایک مدرسے دارالعلوم گلشن کے مہتمم مولانا عبدالخالق کی جانب سے جمعہ کے روز قبائلی ملک اور’جاسوسوں‘ پر یہ پابندی ہے کہ کوئی پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر مذاکرات کے لیے نہیں جائے گا۔ تاہم انہوں نے عام لوگوں پر یہ پابندی نہیں لگائی تھی اور وہ اپنی مشکلات کے حل کے لیے جا سکتے ہیں۔

اعلان کے مطابق اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کو شورٰی کے سامنے پیش کیا جائے گا جو اس کی سزا کا فیصلہ کرے گی۔

مولانا عبدالخالق نے پشاور سے شائع ہونے والے تین اردواخبارات کی شمالی وزیرستان میں فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ اس اقدام کی وجہ ان اخبارات میں وہ سرکاری بیان تھا جس میں مولانا عبدالخالق کو جمعرات کے روز سرکاری دفاتر پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور ان کی عوام میں مقبولیت ختم ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔

اس وجہ سے میران شاہ کے صحافیوں نے رپورٹنگ بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کسی تازہ جھڑپ کے خوف سے دوکانداروں نے کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ تین سو سے زائد افراد نقل مکانی بھی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد