BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 18:48 GMT 23:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون:’سیاست کی اجازت نہیں‘

کورکمانڈر اجلاس ء2005
پاکستان میں فوج کے کور کمانڈرز کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے
پاکستان کی فوجی قیادت نے پیغبر اسلام کے کارٹون اور خاکوں کی اشاعت کے خلاف حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اتفاق رائے سے کہا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ اعلامیہ منگل کے روز کور کمانڈرز کی پچانویں کانفرنس کے موقع پر جاری کیا گیا ہے جس میں تمام کور کمانڈرز اور پرنسپل سٹاف افسروں نے شرکت کی۔

کور کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیغبر اسلام کے خاکوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء کو بلوچستان اور صوبہ سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات کی صورتحال کے متعلق بریفنگ دی گئی۔

لیکن پورے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ کانفرنس کی توجہ کا مرکز مغربی ذرائع ابلاغ میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف ہونے والے احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے پر ہی رہا۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی اسلامی فوج کی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان خاکوں کی اشاعت کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور حکومت گزشتہ سال اکتوبر میں مختلف فورم پر اس کی مذمت کرچکی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان حکومت ڈنمارک کی حکومت کو پہلے ہی خط لکھ کر پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرچکی ہے۔ ڈنمارک میں تعینات پاکستانی سفیر سمیت چھ اسلامی ممالک کے سفیروں نے مقامی حکومت کو اپنا سخت احتجاج نوٹ کرایا ہے۔

صدر نے اپنے ساتھی فوجی کمانڈروں کو بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر میں جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب نے اسلامی ممالک کی تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت میں انسانی حقوق کے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو خط لکھ کر اس معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کی تھی۔ صدر کے مطابق پاکستان کی پہل پر ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مذاہب کے احترام اور اسلاموفوبیا کے رجحان کو روکنے کے لیے قرار داد منظور کرائی تھی۔

صدر نے بڑی تفصیل کے ساتھ حکومتی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت اس بارے میں عالمی سطح پر قانون سازی کے لیے بھی کہے گی تاکہ کسی بھی پیغمبر کی توہین کو مجرمانہ فعل قرار دیا جائے۔

کور کمانڈرز کانفرنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ بدقسمتی سے بدنیتی کے ساتھ کچھ لوگوں نے امن وامان کا مسئلہ پیدا کیا اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے عدم تحفظ کی صورتحال پیدا کی‘۔

فوجی قیادت نے کہا ہے کہ جو بھی مذموم مقاصد رکھنے والے عناصر اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی ایجنڈے کے لیے اپنے بھائیوں کے جان اور مال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے حکومت ان کے خلاف سختی سے نمٹے گی۔

فوجی قیادت کو بری فوج کی صلاحیتیں بڑھانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حاصل کیے جانے والے نئے آلات کے متعلق بھی بریف کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد