اپوزیشن تین مارچ کو ہڑتال کرے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام سیاسی، دینی اور قوم پرست جماعتوں نے آج پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر تین مارچ کو ملک گیر ہڑتال میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن جدو جہد کریں گی۔ اسلام آباد میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے پیر کو ایک گول میز کانفرنس میں شرکت کی جس کا بنیادی مقصد ناموس رسالت کے لیئے کیے گئے مظاہروں پر حکومتی پابندی اور ملک میں سیاسی صورتحال پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ کانفرنس کے بعد اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی نظر میں صدر جنرل پرویز مشرف ملک کے لیئے سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں اور ان کے بنائے ہوئے سیٹ اپ کے تحت آئندہ انتخابات کا انعقاد قبول کرنا دھاندلی کو فروغ دینے اور آئین شکنی کو تسلسل دینے کے مترادف ہو گا۔ گول میز کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ناموس رسالت کے لیے ہونے والے احتجاج میں شامل مظاہرین پر تشدد کیا اور نہ صرف سیاسی و دینی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات کے تحت گرفتار کیا بلکہ مسلح افواج، رینجرز اور پولیس سمیت ساری ریاستی مشینری پرامن مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیئے جھونک دی۔ کانفرنس کا اعلامیہ جاری کرنے سے پہلے حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماوں نے تقاریر بھی کیں۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا کہ حکومت نے توہین رسالت کے مسئلے پر حزب اختلاف اور عوام پر شرمناک حد تک تشدد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خدا اور رسول کو خوش کرنے کے بجائے امریکہ کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مجلس عمل کے رہنما اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت ناموس رسالت کے جلسوں کو روک کر اس کو سیاسی تنازعے میں تبدیل کر رہی ہے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقے وزیرستان کے عوام سرحد پار سے اتحادی فوج کے حملوں کے بعد پاکستانی فوج اور امریکہ کے سخت مخالف ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کو اس وقت مل کر ملک میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف تحریک کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہئے۔ حزب اختلاف کی اس گول میز کانفرنس میں حزب اختلاف کی جماعتیں اکٹھی تو ہوئیں اور مل کر حکومت کے خلاف جدو جہد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا مگر اس جدو جہد کی حکمت عملی کیا ہوگی اس کو طے کرنے کے لئے ایک آٹھ رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔ کیا حزب اختلاف کی جدوجہد عملی رخ اختیار کرے گی یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ذرائع ابلاغ کے ہر نمائندے نے حزب اختلاف کے رہنماؤں سے چاہا مگر جواب صرف اتنا ملا کہ اگر ہر بات آج ہی بتا دی جائے تو حزب اختلاف والے کل کیا کریں گے۔ | اسی بارے میں حزب اختلاف کی گول میز کانفرنس 27 February, 2006 | پاکستان ’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘25 February, 2006 | پاکستان کارٹون معاملہ یواین میں: مشرف25 February, 2006 | پاکستان حکومت کےخلاف احتجاج کا اعلان26 February, 2006 | پاکستان لاہور کی ناکہ بندی، رہنما گرفتار26 February, 2006 | پاکستان لاہور میں احتجاجی مظاہرے کی تیاریاں26 February, 2006 | پاکستان قاضی حسین احمد پھر نظر بند 24 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||