قاضی حسین احمد پھر نظر بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور پولیس نے جمعہ کے روز جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کو ان کے گھر پر نظر بند کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ ایم ایم اے نےجمعہ کو ہی متنازعہ کارٹونوں پر یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرز منصورہ کے باہر جمعہ کی صبح پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جو لوگوں کو اندر جانے سے روک رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان انور نیازی کے مطابق نصف شب کے بعد ڈھائی بجے پولیس نے جماعت اسلامی سے کہا تھا کہ وہ قاضی حسین احمد کی نظر بندی کے احکامات پر دستخط کریں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ تاہم قاضی حسین احمد منصورہ کے اندر موجود ہیں اور باہر نہیں نکلے۔ متحدہ مجلس عمل نے نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد کارٹونوں کے معاملہ پر احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق قاضی حیسن احمد منصورہ کے اندر جمعہ پڑھائیں گے۔ لاہور میں پولیس نے جمعرات کی شب دس افراد کو حراست میں لیا جن پر چودہ فروری کو لاہور میں توڑ پھوڑ کرنے کا الزام ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس کے کارکنوں کو شہر کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق تمام بڑی مسجدوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ کیپیٹل سٹی کے ایڈیشنل آئی جی خواجہ خالد فاروق کے مطابق شہر میں آٹھ ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں جو چھبیس فروری تک تعینات رہیں گے جس روز مجلس عمل نے لاہور میں جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ لاہور پولیس کے سربراہ کے مطابق اب تک چودہ فروری کے واقعات کے سلسلہ میں انتالیس مقدمات درج کرکے تین سو گیارہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پینسٹھ افراد کو نظر بند کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں مظاہرے جاری رہیں گے:مجلسِ عمل20 February, 2006 | پاکستان اسلام آباد: مجلس کی کال پر مظاہرہ19 February, 2006 | پاکستان لاہور اور اسلام آباد میں احتجاج اورگرفتاریاں14 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||