لاہور اور اسلام آباد میں احتجاج اورگرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو پاکستان میں یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے کارٹون کی اشاعت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور اسلام آباد اور لاہور میں مظاہرے اور ہڑتال ہوئی۔ اسلام آباد میں پولیس کو اس وقت مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کرنی پڑی جب تقریباً دو سو افراد نے ’ڈِپلومیٹک اینکلیو‘ یعنی سفارتی احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ مظاہرین اس جلوس میں بھی شریک تھے جو کئی ارکانِ اسمبلی کی قیادت میں آج نکالا گیا۔ پولیس نے چھ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ لاہور سے عدنان عادل کی رپورٹ: کاروبار کی ہڑتال ’تحفظ ناموس رسالت محاذ‘ کی درخواست پر کی گئی ہے۔ گزشتہ روز تاجر تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ مختلف دینی مدرسوں، جماعت اسلامی اور دعوت اسلامی نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد شہر میں ایسی ہڑتال دیکھنے میں آئی ہے جس میں کھانے پینے کی دکانیں، بیکریاں، میڈیکل اسٹورز اور گلی محلہ کی چھوٹی دکانیں بھی بند ہیں جو عام طور پر ہڑتال کے دن کھلی رہتی تھیں۔ آج کی ہڑتال میں اب تک کوئی ایسا واقعہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا جس میں دکانداروں کو ان کی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔ لاہور کے بازاروں سے دوسرے شہروں میں سامان لے جانے والی گڈز ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔ شہر میں جگہ جگہ بینرز لگے ہوئے ہیں جن پر ڈنمارک حکومت کے خلاف نعرے لکھے ہیں اور توہین رسالت کےمجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبے کیا گیا ہے۔ منگل کو دوپہر کے بعد مختلف مسالک کی مذہبی جماعتیں اور گروپوں کا داتا دربار سے احتجاجی جلوس نکالنے کا پروگرام ہے جو کہ اسمبلی ہال تک جائے گا۔ | اسی بارے میں پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام11 February, 2006 | پاکستان ’کارٹون چھاپنے والے کی دوائیاں نہیں‘10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||