BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 February, 2006, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کارٹون چھاپنے والے کی دوائیاں نہیں‘

 پاکستان مظاہرے
پاکستان میں پیغمبر اسلام کے کارٹون چھاپنے پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر صحت محمد نصیر خان نے کہا ہے کہ جس ملک کے اخبارات نے پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹون شایع کیے ہیں ان ممالک سے احتجاجی طور پر ادویات درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران کہی۔

حکومتی سینیٹر کامل علی آغا کے ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ توہین آمیز کارٹون کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ اسی فیصد ادویات پاکستان میں ہی تیار ہوتی ہیں اور بیس فیصد دوائیں باہر سے منگوائی جاتی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں دنیا کے پینتالیس ممالک سے تیس کروڑ پینتاللیس لاکھ ڈالر کی ادویات درآمد کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ڈنمارک، فرانس، امریکہ اور دیگر ممالک کے مختلف اخبارات اور ویب سائیٹ پیغمبر اسلام کے متعلق مختلف کارٹون شایع کرچکے ہیں۔ ان کارٹونز کی اشاعت کے خلاف مسلمان ممالک کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تاحال پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں کچھ لوگ مارے بھی جاچکے ہیں۔

پاکستان حکومت نے متعلقہ ممالک سے جان بچانے والی ادویات منگوانے پر تو پابندی عائد کردی ہے لیکن دوسری اشیاء کے کاروبار پر پابندی کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

سینیٹ میں دیگر سوالات کے جواب میں وزیر صحت نے بتایا کہ تریپن فیصد ادویات کی قیمتیں پاکستان میں بھارت کی نسبت سستی ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ اپریل سے خارج المدت ادویات بیچنے کے خلاف ملک بھر میں ایک مہم شروع کی جائے گی ۔ ان کے مطابق مدہ خارج دوائیں بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

سینیٹ کے اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین نے کوئٹہ میں محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ سے ان کے تین محافظ اغوا کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ جس پر وزیر مملکت برائے پیٹرولیم محمد نصیر مینگل نے کہا کہ انہیں کسی سرکاری ایجنسی نے نہیں بلکہ قبائلی دشمنی کی وجہ سے اغوا کیا گیا ہے۔

سینیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بھی حزب مخالف نے احتجاج کیا اور حکومت پر قیمتوں پر ضابطہ لانے میں ناکامی کے الزامات لگائے۔

وزیر مملک برائے خوراک محمد علی ملکانی نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے اس بارے میں ایک کمیٹی بنادی ہے جس میں تمام متعلقہ فریقین کو نمائندگی حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ کمیٹی ملک میں چینی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک حکمت عملی وضح کرے گی۔

اسی بارے میں
کارٹون پر پاکستان کا احتجاج
02 February, 2006 | پاکستان
کارٹون: نو سفیروں کی طلبی
04 February, 2006 | پاکستان
درہ آدم خیل میں احتجاج
08 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد