کارٹونوں کامعاملہ کشمیرپرچھایارہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں منائے جانے والے یوم یکجہتی کشمیر کے مظاہروں اور تقریبات پر یورپ میں شائع ہونے والے ان کارٹونوں کا معاملہ چھایا رہا جن میں پیغبرِ اسلام اور مقدس شخصیات کی مبینہ توہین کی گئی ہے۔ لاہور کی مال روڈ پر حکمران مسلم لیگ کے زیر اہتمام ہونے والے جلسے میں وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے جہاں اپنے اس پرانے موقف کو دہرایا کہ ’مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر پاک بھارت تعلقات ٹھیک نہیں ہو سکتے‘ وہاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یورپی ممالک میں کارٹونوں کی اشاعت کا واقعہ افسوسناک ہے جس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ انہوں کہا کہ ان مبینہ توہین آمیز کارٹونوں پر صدر مشرف نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ جرآت مندانہ اوربالکل درست ہے‘۔ مال روڈ کے ریگل چوک پر مجلس عمل لاہور اور جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے الگ الگ جلسے ہوئے۔ جماعت اسلامی لاہور کے امیر حافظ سلمان بٹ نے کارٹونوں کی مذمت کی اور کہا کہ ’مغرب دہشت گردی کے الزامات تو مسلمانوں پر عائد کرتا ہے جب کہ مذہبی جذبات کو برانگیخت کرنے کو کیا کہا جائے؟‘ انہوں نے کہا کہ ’مسلمانوں کے لیے توہین آمیز کارٹون بھی دہشت گردانہ کارروائی ہیں جس سے نہ صرف اہل پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ حافظ سلمان بٹ نے جمعہ کو لاہور پریس کلب کے سامنے کارٹونوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا اور یوم یک جہتی کشمیر کے جلسے میں آنے والے شرکاء سے وعدہ لیا کہ سب شرکاء اپنے ساتھ کم از کم ایک شخص کو اس جلسے میں لے کر آئے گا۔ جماعتہ الدعوۃ کا جلسہ بھی ریگل چوک پر ہوا اور مقررین نے زیادہ وقت کارٹونوں کے معاملے پر اظہار کیا۔
مقررین نے ان کارٹونوں کی اشاعت کا بدلہ لینے کی بات کی۔ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا کہ انہوں نے یہ خاکے خود دیکھے ہیں۔ انہوں نے حاضرین کو ان کارٹونوں کی تفصیل بتائی جس سے حاضرین کے غصے میں اضافہ ہوا اور نعرے بازی ہوئی۔ حافظ محمد سعید نے ان کارٹونوں کو مذہبی دہشت گردی قرار دیا ان بقول اس صلیبی دہشت گردی کا آغاز ڈنمارک، ناروے، سوئٹزر لینڈ اور فرانس سے ہوا یعنی ان کے بقول یورپ نے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ سے متحد ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ ’مسلمانوں کو جہاد سے روکنے اور ڈرانے کے لیے نفرت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے لیکن ان کے بقول اس سے جہاد کا راستے کھلا ہے‘۔ انہوں نے پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ کارٹونوں کے معاملےمیں متحد ہوجائیں اور شہر شہر اس کے خلاف احتجاج کریں۔ لاہور کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں یوم یک جہتی کشمیر کے سلسلے میں جلسے سیمنار اور دیگر تقریبات ہوئیں جن میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا۔ | اسی بارے میں بیروت: ڈنمارک کاسفارتخانہ نذرآتش05 February, 2006 | آس پاس ’شام کی حکومت نے کوتاہی برتی ہے‘05 February, 2006 | آس پاس رابرٹ فسک اور کارٹون کا تنازع 05 February, 2006 | قلم اور کالم تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش04 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازعہ: اردن کے مدیر گرفتار04 February, 2006 | آس پاس اپنے مسائل خود مل بیٹھ کر حل کیجئے04 February, 2006 | قلم اور کالم کیا معاملہ واقعی آزادیِ اظہار کا ہے؟04 February, 2006 | قلم اور کالم کارٹونوں کے معاملے پر تحمل کی اپیل04 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||