کیا معاملہ واقعی آزادیِ اظہار کا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کے ایک اخبار میں پیغبرِ اسلام کے کارٹون کی اشاعت کے بعد نہ صرف مسلمان ممالک میں بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمان احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے یہ معاملہ اتنا تھا کہ مسلمان ممالک کی کچھ حکومتوں نے ڈنمارک کی حکومت سے کارٹون کی اشاعت کا نوٹس لینے اور اس پر اخبار سے اور حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اخبار نے یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا کہ یہ اظہار اور صحافت کی آزادی کا معاملہ ہے اور اس پر معافی نہیں مانگی جا سکتی۔ ڈنمارک کی حکومت نے پہلے تو خاموشی اختیار کیے رکھی لیکن جب کچھ مسلمان ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو یہ وضاحت کی گئی کہ اس معاملے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اخبار کی آزادی میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔ ڈنمارک کے اس موقف کو قبول نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں اس نوع کی آزادی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اور ان ملکوں میں جس طرح کی حکومتیں اور اندازِ حکمرانی ہے اس میں یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اخبار حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر بھی ہو سکتا ہے اور ایسا محسوس کرنا اب تو اور بھی بجا ہے کیونکہ ایران کے سوا کم و بیش تمام مسلمان ملک یہاں تک کہ شام بھی اس طرح کی یقین دہانی کرانے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ اگر اس کہ کسی شہری نے کہیں کوئی ایسی خلاف ورزی کی ہے جو مغربی ملکوں کے معیار سے قابلِ سزا ہے تو وہ انہیں سزا دے گا۔ دوسرے کئی ملک تو اپنے ہاں سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے بھی کر رہے ہیں، اپنی سرحدی حدود کی کھلی خلاف ورزیوں اور ان حدود میں لوگوں کی ہلاکتوں پر پر بھی برائے نام احتجاج کے سوا کچھ نہیں کرتے اور ان لوگوں کو طویل عرصے تک کسی فردِ جرم اور مقدمے کے بغیر قید میں رکھے جانے پر بھی انہوں نے چوں تک نہیں کی۔ اس پس منظر میں اگر انہیں کینیڈا یا فرانس کا حکومتی موقف سمجھ نہیں آتا تو اسے سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ہاں اگر مسلمان ملکوں میں ویسی ہی شہری، اظہاری اور صحافتی آزادی ہوتی جیسی یورپ اور مغربی ملکوں میں ہے یا بتائی جاتی ہے تو شاید معاملہ اتنا خراب نہ ہوتا۔ مسلمان ملکوں کی اس دھمکی کے بعد کہ معافی نہیں مانگی جائے گی تو ڈنمار ک سے سفارتی تعلقات بھی ختم کر دیے جائیں گے، ڈنمارک کے مذکورہ اخبار کے ایڈیٹر نے معذرت کر لی اور کہا وہ اس بات پر تو پشیمان نہیں کہ انہوں کارٹون کیوں بنوائے اور شائع کیے لیکن اس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوئی ہے اس پر ضرور معذرت خواہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈنمارک کے وزیراعظم کا بیان بھی آیا جنہوں نے ایڈیٹر کے رویہ کو دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ مسلمان ملکوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ڈنمارک کی حکومت یا وزارتِ اطلاعات اخبار ایڈٹ نہیں کرتی۔ ساتھ ہی ڈنمارک کی حکومت نے اپنے شہریوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ مسلمان ملکوں کا سفر نہ کریں کیونکہ یہ سفر محفوظ نہیں ہے۔ یہاں تک تو معاملہ مسلمان ملکوں اور ڈنمارک کے درمیان تھا لیکن چند روز قبل فرانس، اٹلی، جرمنی اور اسپین کے اخباروں نے پیغمبرِ اسلام کے ہی نہیں اللہ کے بھی کارٹون شائع کر دیے اور کہا کہ یہ ڈنمارک کے اخبار سے اس مبینہ اظہار یکجہتی کا مقصد یہ دکھانا بتایا گیا کہ ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی کٹرپن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ وہ آزادیِ صحافت کی حمایت کرتی ہے لیکن اسے کارٹونوں کی اشاعت پر حیرت ہے، مذاہب اور عقائد کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اسلام میں کارٹونوں کی اشاعت ممنوع نہیں ہے لیکن مسلمانوں کا موقف اس معاملے پر یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا تصور ان کے نزدیک ہے کہ بعید از قیاس ہے اور انسانی شعور اس کا احاطہ نہیں کر سکتا اس لیے اس کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ کامیاب نہیں ہو گی اور توہین کے زمرے میں آئے گی۔ اس تصور پر کیا بحث ہو کون کرے اور کس سے کرے یہ ایک الگ معاملہ ہے اور مسلمان اس بارے میں اپنے بنیادی ماخذوں یعنی قرآن اور احادیث کی روشنی میں کیا دلائل رکھتے ہیں اس پر بھی بات کی جا سکتی ہے لیکن اس پورے تنازعے سے ایک بار پھر دو ایسی باتیں سامنے آئی ہیں جو خالص نظری بحث کا تقاضہ کرتی ہیں۔ سب سے پہلے آزادی اور اس کا دائرہ یا حدود۔ تو اس آزادی کی اس سے جامع تعریف نہیں کی جا سکتی کہ ایک فرد کی آزادی دوسرے کی ناک پر ختم ہو جاتی ہے۔ انفرادی آزادی کے اس اصول کا اطلاق اظہار اور صحافت پر کیوں نہیں ہو سکتا، ہونا چاہیے یا نہیں اور ہونا چاہیے تو کسی طرح ہونا چاہیے اس پر بہت سےممالک میں صابطے اور قانون موجود ہیں اور اگر بنتے بھی رہتے ہیں اور اگر اب بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں تو کچھ رد و بدل صرور کرنا چاہیے کیونکہ یہ تو انسانی ارتقاء کا تقاضا ہے۔ اس کے علاوہ کارٹون کیا ہوتا ہے اور مزاح کیا مذاق اڑنے اور توہین کرنے یا تکلیف پہنچانے کا نام ہے یہ خالص فنی معاملہ ہے کارٹونسٹوں کو اس بارے سوچنا چاہیے۔ اس تنازع میں ڈنمارک کے وزیراعظم اور فرانسیسی حکومت کا موقف انتہائی دانشمندانہ ہے لیکن میری رائے میں ان تمام اخباروں کے مدیر جنہوں نے مذکورہ کارٹون شائع کیے ہیں غلط ادارتی فیصلے کا شکار ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں مزاح تیز دھار خنجر سے گدگدانے کا عمل ہے جس کا علم گدگدانے والے کو زیادہ ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ جسے اس نزاکت کا ادراک نہ ہو اسے یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ ذرائع ابلاغ میں ہر بات بیان کی جا سکتی ہے اور کی جانی چاہیے اس پر کسی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن ہر بات کا بیان اور اظہار ایک خاص مہارت اور پیرائے کا تقاضا کرتا ہے اور اسی لیے ذرائع ابلاغ میں ادارتی امور کے مختلف مدارج ہوتے ہیں جن سے گزرنے کے بعد ہی کوئی اطلاع یا بات قارئین، ناظرین اور سامعین تک پہنچتی ہے اور اگر یہ مدارج نہ ہوں تو آزادی کا استعمال ایک ایسا انتشار پیدا کر دےگا کہ سنبھالے نہ سنبھلے گا۔ اس بات کو فرانسیسی اخبار فرانس سواغ کے مالک کے فیصلے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے جنہوں نے اخبار میں کارٹونوں کی اشاعت کے بعد اخبار کے میجنگ ایڈیٹر کو سبکدوش کر دیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کو ذرا اس معاملے پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے کہ کیا کارٹونوں کی اشاعتِ مذکورہ منیجنگ ایڈیٹر کی برطرفی درست ہے یا نہیں اور اگر درست تھی تو دوسرے ملکوں نے اس پیروی کیوں نہیں کی اور غلط تھی تو اس پر اب تک باقی سارے اخبار اور مغرب میں اظہار کی آزادی کی تنظیمیں چپ کیوں ہیں؟ مغربی دانشوروں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ مسلمان ملکوں کیلیے مغربی ملکوں کا اور مغربی ملکوں کیلیے مسلمانوں کا موقف ناقابلِ فہم کیوں ہے اور عدم تفہیم کی اس خلیج کے کیسے پاٹا جا سکتا ہے؟ کیونکہ افغانستان اور 11/9 کے بعد مسلسل ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جو مسلسل اس خلیج کو بڑھاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ دلیل اور انصاف کے تقاضے ایک ایسے توازن کی موجودگی ہی میں کارآمد ہوتے ہیں جو کم کم موجود ہوتا ہے لیکن دلیل کی طرف آنے اور منصفانہ محسوس ہونے کی کوشش تو کرنی ہی چاہیے۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازع: مکرر اشاعت پر موقف 01 February, 2006 | آس پاس مسلم دنیا میں شدید ردِ عمل02 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پراحتجاج جاری03 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پر دنیا بھر میں رد عمل03 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||