BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 February, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت
کئی مسلم ممالک میں آج کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرے کیئے جا رہے ہیں
یورپ کے کئی ملکوں کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعات پر جمعہ کو اسلامی ملکوں میں احتجاج ہوا ہے جبکہ امریکی اور برطانوی وزارتِ خارجہ نے بھی ان کارٹونوں کی اشاعت کو تنقید کانشانہ بنایا۔

برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کو دوبارہ شائع کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا آزادی اظہار رائے کا سب قدر کرتے ہیں لیکن دانستہ اشتعال دلانے کی کوشش غلط ہےاور دوبارہ کارٹونوں کی اشاعت غیر ضروری تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کارٹونوں پر اپنا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ اس طرح مذہبی اور لسانی منافرت کو ہوا دینا قطعی ناقابلِ قبول ہے۔

مسلم ممالک میں جمعہ کی نماز کے بعد پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں اور مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے پہلے ڈنمارک اور پھر یورپ کے کچھ ممالک کی اخباروں میں ان کارٹونوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان سمیت کئی ملکوں میں مظاہرین نے احتجاجی بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف غم و غصے کا اظہار تھا۔ پاکستان کے ایوانِ بالا میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جن ممالک میں یہ کارٹون شائع ہوئے ہیں ان کے سفیروں کو دفترِ خارجہ طلب کر کے واقعے پر احتجاج کیا جائے۔


انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرین کچھ دیر کے لیئے ڈنمارک کے سفارت خانے میں گھس گئے۔

درین اثناء ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرس فوگ نے کوپن ہیگن میں اسلامی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی ہے تاکہ وہاں پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع ہونے کے بعد مسلم دنیا میں جو تنازع جاری ہے اس ختم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلے کی اصل وجہ ثقافتی اور سماجی اختلافات ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ روز انہوں نے ایک عربی ٹی وی پر آ کر ایک مرتبہ پھر کارٹونوں کی اشاعت سے مسلمانوں کی دل آزاری پر معذرت کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ان کارٹونوں کی اشاعت کی ذمہ دار نہیں۔

پاکستان میں نمازِ جمعہ کے بعد مظاہرے ہوئے جن میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹون شائع کیئے جانے کی شدید مذمت کی گئی

ادھر فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے فرانسیسی اخبار کی طرف سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ کارٹون کو دوبارہ شائع کرنے پر حیرت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تنقید کا حق جمہوریت کا لازمی جزو ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

فرانس اور اردن میں ان اخباروں کے ایڈیٹر مستفعیٰ ہو گئے ہیں جنہوں نے ان متنازع کارٹون چھاپے تھے۔

اردن میں ایک روزنامہ الشیان نے تین متنازعہ کارٹون یہ کہہ کر چھاپے کہ مسلمانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کس چیز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

اخبار کے ایڈیڑ نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کارٹونوں کے معاملے پر ردِ عمل ظاہر کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔اخبار نے مالک نے ایڈیڑ کو چند گھنٹوں بعد ہی ملازمت سے نکال دیا۔

ڈنمارک کی حکومت نے سعودی عرب اور شام میں اپنے سفیروں کو واپس کوپن ہیگن میں بلایا ہے تاکہ ان سے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں سے پیدا ہونے والے تنازعہ پر پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔

شام اور سعودی عرب پہلے ہی اپنے سفیروں کو ڈنمارک سے واپس بلا لیا ہے۔

ڈنمارک کی کمپنیوں کو مسلمانوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے نقصان ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ڈنمارک کی ڈیری فرم ، ارلہ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ ایک سو پچیس ملازموں کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ گاہک کم ہونے کی وجہ سے ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

تنازعہ کی تاریخ
تیس ستمبر: ڈنمارک کے اخبار میں خاکے کی اشاعت
بیس اکتوبر:مسلمان سفیروں کی ڈنمارک کے وزیر اعظم کو شکایت
دس جنوری: ناروے کے اخبار میں خاکے کی دوبارہ اشاعت
چھبیس جنوری: سعودی سفیر کی واپسی
تیس جنوری: غزہ میں یورپی یونین کے دفتر پر حملہ
اکتیس جنوری: ڈنمارک کے اخبار کی معذرت
یکم فروری: فرانس، جرمنی، ہسپانیہ اور اٹلی کے اخبارات میں خاکوں کی اشاعت

ادھر شدت پسندوں نے فلسطین میں ڈنمارک، ناروے اور فرانس کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

یورنین ٹریڈ کمشنر پیٹر مینڈلسن نے کہا ہے کہ جن اخباروں نے ان کارٹونوں کو دربارہ شائع کیا ہے انہوں نے بھڑکتی ہوئی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔

مسلح فلسطینیوں نے جمعرات کو غزہ شہر میں یورپی اتحاد کے دفتر کو عارضی طور پر گھیرے میں لے لیا۔ ناروے نے غربِ اردن میں اپنے مشن کو بند کر دیا۔

مذہبی رہنماؤں نے صرف یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ اور کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی حمایت کی ہے۔مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں مذہب کی توہین نہیں کی جا سکتی۔

مسلم دنیا میں کارٹون شائع کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے

انہوں نے کہا کہ اگر صورتِ حال کو درست انداز سے قابو میں لانے کی کوشش نہ کی گئی تو انتہا پسند اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کارٹونوں کی اشاعت پوری اسلامی دنیا کی توہین ہے۔ انڈونیشیا میں وزراتِ خارجہ نے اسی قسم کا بیان دیا ہے۔

دریں اثناء فرانس کے اخبار فرانسوا سواغ میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

پیرس سے شائع ہونے والے اخبار فرانس سواغ کا کہنا تھا کہ کارٹونوں کی اشاعت کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی کٹرپن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد